صحیح مسلم حدیث ۵۶۷۶ - حمو کا مطلب اور دیور کا حکم
حمو کا مطلب کیا ہے؟ دیور موت ہے حدیث کی وضاحت
صحیح مسلم : ۵۶۷۶
صحیح مسلمحدیث نمبر ۵۶۷۶
وحَدَّثَنِي أَبُو الطَّاهِرِ ، أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، قال : وَسَمِعْتُ اللَّيْثَ بْنَ سَعْدٍ ، يقول : " الْحَمْوُ أَخُ الزَّوْجِ وَمَا أَشْبَهَهُ مِنْ أَقَارِبِ الزَّوْجِ ابْنُ الْعَمِّ وَنَحْوُهُ " .
لیث بن سعد روایت:
حدیث میں جو آیا ہے کہ «حمو» موت ہے تو «حمو» سے مراد خاوند کے عزیز اور اقربا ہیں جیسے خاوند کا بھائی یا اس کے چچا کا بیٹا (خاوند کے جن عزیزوں سے عورت کا نکاح کرنا درست ہے تو وہ سب «حمو» میں داخل ہیں ان سے پردہ کرنا چاہیے سوائے خاوند کے باپ یا دادا یا اس کے بیٹے کے کہ وہ محرم ہیں ان سے پردہ ضروری نہیں ہے)۔
صحیح مسلم حدیث ۵۶۷۶ کا خلاصہ
اس روایت میں لیث بن سعد رحمہ اللہ سے لفظ حمو کی وضاحت نقل ہوئی ہے۔ انہوں نے فرمایا کہ حمو سے مراد خاوند کا بھائی اور اسی طرح خاوند کے قریبی رشتہ دار ہیں، جیسے چچا کا بیٹا وغیرہ۔ اس وضاحت سے پچھلی حدیث کا مطلب سمجھنے میں آسانی ہوتی ہے، جس میں فرمایا گیا تھا کہ حمو موت ہے۔ عام لوگ دیور موت ہے حدیث تلاش کرتے ہیں، مگر اس روایت سے معلوم ہوتا ہے کہ بات صرف ایک رشتے تک محدود نہیں، بلکہ خاوند کے ایسے قریبی رشتہ دار بھی مراد ہیں جو محرم نہیں۔ یہ وضاحت ہمیں سکھاتی ہے کہ گھر کے رشتوں میں بھی پردہ، احتیاط اور دینی حدود کا خیال رکھا جائے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- حمو سے مراد خاوند کے قریبی غیر محرم رشتہ دار ہیں۔
- دیور کے حکم کو سمجھنے کے لیے اس وضاحت کی اہمیت ہے۔
- قریبی رشتے کی وجہ سے دینی احتیاط ختم نہیں ہوتی۔
