صحیح مسلم حدیث ۵۶۷۸ - بدگمانی سے بچنے کی حدیث
بدگمانی سے بچنے کی حدیث: شیطان خون کی طرح پھرتا ہے
صحیح مسلم : ۵۶۷۸
صحیح مسلمحدیث نمبر ۵۶۷۸
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْلَمَةَ بْنِ قَعْنَبٍ ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، عَنْ ثَابِتٍ الْبُنَانِيِّ ، عَنْ أَنَسٍ : أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ مَعَ إِحْدَى نِسَائِهِ ، فَمَرَّ بِهِ رَجُلٌ فَدَعَاهُ ، فَجَاءَ ، فَقَالَ : " يَا فُلَانُ هَذِهِ زَوْجَتِي فُلَانَةُ " ، فَقَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، مَنْ كُنْتُ أَظُنُّ بِهِ فَلَمْ أَكُنْ أَظُنُّ بِكَ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِنَّ الشَّيْطَانَ يَجْرِي مِنَ الْإِنْسَانِ مَجْرَى الدَّمِ " .
انس روایت:
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اپنی ایک بی بی کے ساتھ تھے، اتنے میں ایک شخص سامنے سے گزرا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کو بلایا وہ آیا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اے فلانے! یہ میری فلاں بی بی ہے۔“ وہ شخص بولا، یا رسول اللہ! میں اگر کسی پر گمان کرتا تو آپ پر گمان کرنے والا نہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”شیطان انسان کے بدن میں ایسے پھرتا ہے جیسے خون پھرتا ہے۔“ (تو شاید تیرے دل میں وسوسہ ڈالے کہ پیغمبر ایک اجنبی عورت کے ساتھ جا رہے تھے)۔
صحیح مسلم حدیث ۵۶۷۸ کا خلاصہ
اس حدیث کا اصل موضوع بدگمانی سے بچنا ہے۔ سیدنا انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اپنی ایک زوجہ کے ساتھ تھے۔ ایک شخص سامنے سے گزرا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے بلایا اور فرمایا کہ یہ میری فلاں بیوی ہیں۔ اس شخص نے عرض کیا کہ یا رسول اللہ، میں آپ کے بارے میں گمان نہیں کر سکتا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ شیطان انسان کے بدن میں ایسے پھرتا ہے جیسے خون پھرتا ہے۔ اس حدیث سے معلوم ہوتا ہے کہ صاف بات کر دینا کبھی کبھی دل کے وسوسے کو روکنے کا سبب بنتا ہے۔ بدگمانی سے بچنے کی حدیث ہمیں سکھاتی ہے کہ پاکیزہ شخص بھی غلط فہمی کا دروازہ بند کر سکتا ہے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- غلط فہمی دور کرنے کے لیے صاف بات کرنا اچھا عمل ہے۔
- شیطان انسان کے دل میں وسوسہ ڈال سکتا ہے۔
- نبی صلى الله عليه وسلم نے اپنی زوجہ کا تعارف کرا کر شبہ دور فرمایا۔
