صحیح مسلم حدیث ۵۶۷۹ - شیطان خون کی طرح پھرتا ہے
شیطان انسان میں خون کی طرح پھرتا ہے: بدگمانی سے بچنے کا سبق
صحیح مسلم : ۵۶۷۹
صحیح مسلمحدیث نمبر ۵۶۷۹
وحَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، وَعَبْدُ بْنُ حميد ، وتقاربا في اللفظ ، قالا : أَخْبَرَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ ، عَنْ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ حُسَيْنٍ ، عَنْ صَفِيَّةَ بِنْتِ حُيَيٍّ ، قالت : كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مُعْتَكِفًا فَأَتَيْتُهُ أَزُورُهُ لَيْلًا ، فَحَدَّثْتُهُ ثُمَّ قُمْتُ لِأَنْقَلِبَ ، فَقَامَ مَعِيَ لِيَقْلِبَنِي ، وَكَانَ مَسْكَنُهَا فِي دَارِ أُسَامَةَ بْنِ زَيْدٍ فَمَرَّ رَجُلَانِ مِنْ الْأَنْصَارِ ، فَلَمَّا رَأَيَا النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَسْرَعَا ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " عَلَى رِسْلِكُمَا إِنَّهَا صَفِيَّةُ بِنْتُ حُيَيٍّ " ، فَقَالَا : سُبْحَانَ اللَّهِ يَا رَسُولَ اللَّهِ ، قَالَ : " إِنَّ الشَّيْطَانَ يَجْرِي مِنَ الْإِنْسَانِ مَجْرَى الدَّمِ ، وَإِنِّي خَشِيتُ أَنْ يَقْذِفَ فِي قُلُوبِكُمَا شَرًّا أَوَ قَالَ شَيْئًا " .
صفیہ بنت حیی روایت:
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اعتکاف میں تھے میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی زیارت کو آئی رات کو۔ میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے باتیں کیں پھر میں کھڑی ہوئی لوٹ جانے کو۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم بھی میرے ساتھ کھڑے ہوئے مجھے پہنچا دینے کو، میرا گھر اسامہ بن زید کے مکان میں تھا۔راہ میں انصار کے دو آدمی ملے، جب انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا تو جلدی جلدی چلنے لگے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”سنبھل کر چلو، یہ صفیہ بنت حیی ہے۔“ (ام المؤمنین) وہ دونوں بولے: سبحان اللہ! یا رسول اللہ! (یعنی ہم بھلا آپ پر کوئی گمان کر سکتے ہیں) آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”شیطان انسان کے بدن میں خون کی طرح پھرتا ہے اور میں ڈرا کہ کہیں تمہارے دل میں برا خیال نہ ڈالے (اور اس کی وجہ سے تم تباہ ہو)۔
صحیح مسلم حدیث ۵۶۷۹ کا خلاصہ
اس حدیث کا مرکزی موضوع بدگمانی اور وسوسے سے بچنا ہے۔ سیدہ صفیہ بنت حیی رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اعتکاف میں تھے، وہ رات کو آپ کی زیارت کے لیے آئیں اور باتیں کیں۔ جب وہ واپس جانے لگیں تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم انہیں پہنچانے کے لیے ساتھ کھڑے ہوئے۔ راستے میں دو انصاری آدمی ملے، انہوں نے آپ کو دیکھا تو تیز چلنے لگے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ٹھہرو، یہ صفیہ بنت حیی ہیں۔ انہوں نے عرض کیا: سبحان اللہ! آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ شیطان انسان میں خون کی طرح پھرتا ہے، مجھے اندیشہ ہوا کہ کہیں تمہارے دلوں میں کوئی برا خیال نہ ڈال دے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- غلط فہمی کا امکان ہو تو وضاحت کر دینا درست ہے۔
- شیطان دل میں برا خیال ڈال سکتا ہے۔
- نبی صلى الله عليه وسلم نے اپنی زوجہ کا نام بتا کر شبہ ختم فرمایا۔
