صحیح مسلم حدیث ۵۶۸۲ - علم کی مجلس کا ادب
علم کی مجلس کا ادب اور حاضر ہونے کی فضیلت
صحیح مسلم : ۵۶۸۲
صحیح مسلمحدیث نمبر ۵۶۸۲
وحدثنا أَحْمَدُ بْنُ الْمُنْذِرِ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ ، حَدَّثَنَا حَرْبٌ وَهُوَ ابْنُ شَدَّادٍ . ح وحَدَّثَنِي إِسْحَاقُ بْنُ مَنْصُورٍ ، أَخْبَرَنَا حَبَّانُ ، حَدَّثَنَا أَبَانُ ، قَالَا جَمِيعًا : حَدَّثَنَا يَحْيَي بْنُ أَبِي كَثِيرٍ ، أَنَّ إِسْحَاقَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي طَلْحَةَ حَدَّثَهُ ، فِي هَذَا الْإِسْنَادِ بِمِثْلِهِ فِي الْمَعْنَى .
اسحاق بن عبداللہ بن ابی طلحہ اس سند کے ساتھ مذکورہ حدیث کے ہم معنی روایت نقل کرتے ہیں۔
صحیح مسلم حدیث ۵۶۸۲ کا خلاصہ
یہ حدیث پچھلی روایت کے ہم معنی ہے۔ اس میں تین آدمیوں کے واقعے کا خلاصہ ملتا ہے۔ ایک شخص مجلس میں خالی جگہ پا کر بیٹھ گیا، دوسرے نے پیچھے بیٹھنا پسند کیا، اور تیسرا واپس چلا گیا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان تینوں کے رویے کے بارے میں بتایا۔ اس حدیث کا اصل پیغام یہ ہے کہ دینی مجلس، علم کی مجلس اور مسجد کی نشست میں انسان کا رویہ بہت معنی رکھتا ہے۔ جو شخص اللہ کی طرف آتا ہے، اس کے لیے خیر کا راستہ کھلتا ہے۔ جو حیا کے ساتھ بیٹھتا ہے، اس کے ساتھ بھی نرمی کا معاملہ ہوتا ہے۔ مگر جو منہ پھیر لیتا ہے، وہ خیر سے محروم ہو سکتا ہے۔ یہ حدیث ہمیں علم سننے کی رغبت سکھاتی ہے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- دینی مجلس میں حاضر ہونا خیر کی بات ہے۔
- مجلس میں ادب کے ساتھ بیٹھنا چاہیے۔
- علم اور نصیحت سے بے رخی اچھا رویہ نہیں۔
