صحیح مسلم حدیث ۵۶۸۱ - دینی مجلس میں بیٹھنے کا ادب
دینی مجلس کا ادب: علم کی مجلس میں بیٹھنے کی حدیث
صحیح مسلم : ۵۶۸۱
صحیح مسلمحدیث نمبر ۵۶۸۱
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، عَنْ مَالِكِ بْنِ أَنَسٍ فِيمَا قُرِئَ عَلَيْهِ ، عَنْ إِسْحَاقَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي طَلْحَةَ ، أَنَّ أَبَا مُرَّةَ مَوْلَى عَقِيلِ بْنِ أَبِي طَالِبٍ أَخْبَرَهُ ، عَنْ أَبِي وَاقِدٍ اللَّيْثِيِّ : أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَيْنَمَا هُوَ جَالِسٌ فِي الْمَسْجِدِ وَالنَّاسُ مَعَهُ إِذْ أَقْبَلَ نَفَرٌ ثَلَاثَةٌ ، فَأَقْبَلَ اثْنَانِ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَذَهَبَ وَاحِدٌ ، قَالَ : فَوَقَفَا عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَأَمَّا أَحَدُهُمَا فَرَأَى فُرْجَةً فِي الْحَلْقَةِ فَجَلَسَ فِيهَا ، وَأَمَّا الْآخَرُ فَجَلَسَ خَلْفَهُمْ ، وَأَمَّا الثَّالِثُ فَأَدْبَرَ ذَاهِبًا ، فَلَمَّا فَرَغَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " أَلَا أُخْبِرُكُمْ عَنِ النَّفَرِ الثَّلَاثَةِ ، أَمَّا أَحَدُهُمْ فَأَوَى إِلَى اللَّهِ فَآوَاهُ اللَّهُ ، وَأَمَّا الْآخَرُ فَاسْتَحْيَا فَاسْتَحْيَا اللَّهُ مِنْهُ ، وَأَمَّا الْآخَرُ فَأَعْرَضَ فَأَعْرَضَ اللَّهُ عَنْهُ " .
ابوواقد لیثی روایت:
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مسجد میں بیٹھے تھے اور لوگ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تھے اتنے میں تین آدمی آئے دو تو سیدھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے اور ایک چلا گیا وہ جو دو آئے ان میں سے ایک نے مجلس میں خالی جگہ پائی وہ وہاں بیٹھ گیا اور دوسرا لوگوں کے پیچھے بیٹھا اور تیسرا تو چل ہی دیا، جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فارغ ہوئے تو فرمایا: ”میں تم سے ان تینوں آدمیوں کا حال کہوں، ایک نے تو ٹھکانا لیا اللہ کے پاس، اللہ نے اس کو جگہ دی اور دوسرے نے شرم کی (لوگوں میں گھسنے سے) اللہ نے بھی اس سے شرم کی اور تیسرے نے منہ پھیرا اللہ نے بھی اس سے منہ پھیر لیا۔“
صحیح مسلم حدیث ۵۶۸۱ کا خلاصہ
یہ حدیث دینی مجلس کے ادب کو بہت آسان انداز میں سمجھاتی ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مسجد میں صحابہ کے ساتھ بیٹھے تھے۔ تین آدمی آئے۔ ایک نے حلقے میں خالی جگہ دیکھی اور وہاں بیٹھ گیا۔ دوسرے نے پیچھے بیٹھنا مناسب سمجھا۔ تیسرا آدمی واپس چلا گیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے بتایا کہ جو اللہ کی طرف آیا، اللہ نے اسے جگہ دی۔ جس نے شرم کی، اللہ نے بھی اس کے ساتھ حیا کا معاملہ فرمایا۔ اور جس نے منہ پھیرا، اللہ نے بھی اس سے منہ پھیر لیا۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ علم کی مجلس، مسجد کی مجلس اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی بات سننے کا موقع معمولی نہیں۔ دینی مجلس میں ادب، شوق اور توجہ بہت اہم ہیں۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- علم کی مجلس میں جگہ ملے تو ادب کے ساتھ بیٹھ جانا چاہیے۔
- لوگوں کو تکلیف دیے بغیر پیچھے بیٹھنا بھی بہتر رویہ ہو سکتا ہے۔
- دینی بات سے منہ پھیرنا انسان کے لیے نقصان کا سبب بن سکتا ہے۔
