صحیح مسلم حدیث ۵۶۸۹ - واپس آنے والا اپنی جگہ کا حق دار ہے
مجلس میں واپس آنے والے کی جگہ کا حق
صحیح مسلم : ۵۶۸۹
صحیح مسلمحدیث نمبر ۵۶۸۹
وحَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، أَخْبَرَنَا أَبُو عَوَانَةَ ، وَقَالَ قُتَيْبَةُ أَيْضًا : حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ يَعْنِي ابْنَ مُحَمَّدٍ كِلَاهُمَا ، عَنْ سُهَيْلٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : إِذَا قَامَ أَحَدُكُمْ ، وَفِي حَدِيثِ أَبِي عَوَانَةَ : " مَنْ قَامَ مِنْ مَجْلِسِهِ ثُمَّ رَجَعَ إِلَيْهِ فَهُوَ أَحَقُّ بِهِ " .
ابوہریرہ روایت:
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب کوئی تم سے کھڑا ہو (کسی حاجت کے لیے) اپنی جگہ سے جہاں وہ بیٹھا تھا پھر لوٹ کر آئے تو اس جگہ کا زیادہ حقدار ہے“۔
صحیح مسلم حدیث ۵۶۸۹ کا خلاصہ
یہ حدیث مجلس کی جگہ کے حق کو بہت صاف انداز میں بیان کرتی ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جب کوئی شخص اپنی جگہ سے اٹھے، پھر واپس آئے، تو وہ اس جگہ کا زیادہ حق دار ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ اگر کوئی عارضی طور پر کسی ضرورت سے اٹھا ہے تو اس کی جگہ کو فوراً اپنا حق نہ سمجھ لیا جائے۔ یہ مجلس کا ادب ہے اور دوسروں کے حق کا لحاظ بھی۔ مسجد، درس، اجتماع یا عام بیٹھک میں یہ حکم بہت کام آتا ہے۔ حدیث ہمیں یہ سکھاتی ہے کہ جگہ پر قبضہ کرنے کے بجائے انصاف اور لحاظ کا رویہ رکھا جائے۔ جو پہلے وہاں بیٹھا تھا اور واپس آیا، اس کے حق کو پہچانا جائے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- جو شخص اٹھ کر واپس آئے، وہ اپنی جگہ کا زیادہ حق دار ہے۔
- کسی کی عارضی غیر موجودگی کو اس کا حق ختم سمجھنا درست نہیں۔
- مجلس میں انصاف اور لحاظ کے ساتھ بیٹھنا چاہیے۔
