صحیح مسلم حدیث ۵۶۹۵ - سرگوشی کے آداب
سرگوشی کے آداب اور تیسرے شخص کا خیال
صحیح مسلم : ۵۶۹۵
صحیح مسلمحدیث نمبر ۵۶۹۵
وحدثنا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بِشْرٍ ، وَابْنُ نُمَيْرٍ . ح وحَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ ، حَدَّثَنَا أَبِي . ح وحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، وَعُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ سَعِيدٍ ، قالا : حَدَّثَنَا يَحْيَي وَهُوَ ابْنُ سَعِيدٍ كُلُّهُمْ ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ . ح وحدثنا قُتَيْبَةُ ، وَابْنُ رُمْحٍ ، عَنْ اللَّيْثِ بْنِ سَعْدٍ . ح وحدثنا أَبُو الرَّبِيعِ ، وَأَبُو كَامِلٍ ، قالا : حَدَّثَنَا حَمَّادٌ ، عَنْ أَيُّوبَ . ح وحدثنا ابْنُ الْمُثَنَّى، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، قال : سَمِعْتُ أَيُّوبَ بْنَ مُوسَى كُلُّ هَؤُلَاءِ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ ، عن النبي صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمَعْنَى حَدِيثِ مَالِكٍ .
ترجمہ وہی ہے جو اوپر گزرا۔
صحیح مسلم حدیث ۵۶۹۵ کا خلاصہ
یہ روایت پچھلی حدیث کے معنی کو بیان کرتی ہے۔ اس کا خلاصہ یہ ہے کہ جب تین آدمی موجود ہوں تو دو آدمی تیسرے کو چھوڑ کر الگ سرگوشی نہ کریں۔ یہ حکم بہت عملی ہے، کیونکہ عام مجلسوں میں کبھی دو لوگ آہستہ بات کرنے لگتے ہیں اور تیسرا شخص پریشان یا رنجیدہ ہو سکتا ہے۔ حدیث کا اصل موضوع سرگوشی کا ادب اور دوسروں کے احساسات کا خیال ہے۔ اسلام انسان کو یہ سکھاتا ہے کہ بات چیت میں بھی شائستگی ہو۔ اگر کوئی بات الگ کرنی ہو تو ایسا انداز نہ ہو جس سے موجود شخص کے دل میں رنج یا شک پیدا ہو۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- سرگوشی میں تیسرے شخص کو نظر انداز نہ کیا جائے۔
- مجلس میں بات چیت کا انداز دل آزاری سے خالی ہونا چاہیے۔
- اسلامی ادب گفتگو کے طریقے تک پھیلا ہوا ہے۔
