صحیح مسلم حدیث ۵۹۲ - زبان کی صفائی اور مسواک
مسواک سے زبان کی صفائی: نبی صلى الله عليه وسلم کا عمل
صحیح مسلم : ۵۹۲
صحیح مسلمحدیث نمبر ۵۹۲
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ حَبِيبٍ الْحَارِثِيُّ ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ ، عَنْ غَيْلَانَ وَهُوَ ابْنُ جَرِيرٍ الْمَعْوَلِيُّ ، عَنْ أَبِي بُرْدَةَ ، عَنْ أَبِي مُوسَى ، قَالَ : " دَخَلْتُ عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَطَرَفُ السِّوَاكِ عَلَى لِسَانِهِ " .
ابوموسیٰ روایت:
میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس گیا، مسواک کا ایک کونہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی زبان پر تھا (یعنی مسواک سے زبان صاف کر رہے تھے)۔
صحیح مسلم حدیث ۵۹۲ کا خلاصہ
اس حدیث میں سیدنا ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ اپنا مشاہدہ بیان کرتے ہیں کہ وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس گئے تو مسواک کا ایک کونہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی زبان پر تھا۔ دی گئی ترجمہ وضاحت کے مطابق اس کا مطلب ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم مسواک سے زبان صاف کر رہے تھے۔ یہ روایت مسواک کے استعمال کی ایک عملی صورت بتاتی ہے۔ عام طور پر لوگ مسواک کو صرف دانتوں کے لیے سمجھتے ہیں، مگر اس حدیث میں زبان کی صفائی کا ذکر بھی سامنے آتا ہے۔ یہ بات صفائی کے سادہ اور روزمرہ پہلو سے تعلق رکھتی ہے۔ حدیث کا اصل سبق یہی ہے کہ منہ کی صفائی میں مسواک کا استعمال کیا گیا، اور اس میں زبان کی صفائی بھی شامل نظر آتی ہے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- نبی صلی اللہ علیہ وسلم مسواک سے منہ کی صفائی کرتے تھے۔
- اس روایت میں زبان پر مسواک رکھنے کا ذکر آیا ہے۔
- منہ کی صفائی صرف دانتوں تک محدود نہیں رہتی۔
- صحابہ رضی اللہ عنہم نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے اعمال کو غور سے دیکھتے اور روایت کرتے تھے۔
