صحیح مسلم حدیث ۵۹۵۳ - ہدایت اور علم کی مثال
ہدایت اور علم کی بارش جیسی مثال - سمجھنے والوں اور نہ سمجھنے والوں کا فرق
صحیح مسلم : ۵۹۵۳
صحیح مسلمحدیث نمبر ۵۹۵۳
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَأَبُو عَامِرٍ الْأَشْعَرِيُّ ، وَمُحَمَّدُ بْنُ الْعَلَاءِ ، وَاللَّفْظُ لِأَبِي عَامِرٍ ، قَالُوا : حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ ، عَنْ بُرَيْدٍ ، عَنْ أَبِي بُرْدَةَ ، عَنْ أَبِي مُوسَى ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " إِنَّ مَثَلَ مَا بَعَثَنِيَ اللَّهُ بِهِ عَزَّ وَجَلَّ مِنَ الْهُدَى وَالْعِلْمِ ، كَمَثَلِ غَيْثٍ أَصَابَ أَرْضًا ، فَكَانَتْ مِنْهَا طَائِفَةٌ طَيِّبَةٌ قَبِلَتِ الْمَاءَ فَأَنْبَتَتِ الْكَلَأَ وَالْعُشْبَ الْكَثِيرَ ، وَكَانَ مِنْهَا أَجَادِبُ أَمْسَكَتِ الْمَاءَ فَنَفَعَ اللَّهُ بِهَا النَّاسَ ، فَشَرِبُوا مِنْهَا ، وَسَقَوْا ، وَرَعَوْا ، وَأَصَابَ طَائِفَةً مِنْهَا أُخْرَى ، إِنَّمَا هِيَ قِيعَانٌ لَا تُمْسِكُ مَاءً ، وَلَا تُنْبِتُ كَلَأً ، فَذَلِكَ مَثَلُ مَنْ فَقُهَ فِي دِينِ اللَّهِ وَنَفَعَهُ بِمَا بَعَثَنِيَ اللَّهُ بِهِ ، فَعَلِمَ ، وَعَلَّمَ ، وَمَثَلُ مَنْ لَمْ يَرْفَعْ بِذَلِكَ رَأْسًا وَلَمْ يَقْبَلْ هُدَى اللَّهِ الَّذِي أُرْسِلْتُ بِهِ " .
ابوموسیٰ روایت:
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”مثال اس کی جو اللہ نے مجھ کو دیا ہدایت اور علم، ایسی ہے جیسے مینہ برسا زمین پر، اس میں کچھ حصہ ایسا تھا جس نے پانی کو چوس لیا، اور چارا اور بہت سا سبزہ جمایا، اور کچھ حصہ اس کا کڑا سخت تھا، اس نے اس پانی کو سمیٹ رکھا، پھر اللہ تعالیٰ نے لوگوں کو فائدہ پہنچایا اس سے، لوگوں نے اس سے پیا اور پلایا اور چرایا (بخاری کی روایت میں «زَرَعُوْا» ہے یعنی کھیتی کی اس سے) اور کچھ حصہ اس کا چٹیل میدان ہے نہ تو پانی کو روکے، نہ گھاس اگائے، (جیسے چکنی چٹان کہ پانی لگا اور چل دیا)۔ تو یہ مثال ہے اس کی جس نے اللہ کے دین کو سمجھا اور اللہ نے اس کو فائدہ دیا اس چیز سے جو مجھ کو عطا فرمائی، اس نے آپ بھی جانا اور اوروں کو بھی سکھایا۔ اور جس نے اس طرف سر نہ اٹھایا (یعنی توجہ نہ کی) اور اللہ کی ہدایت کو قبول نہ کیا جس کو میں دے کر بھیجا گیا۔“
صحیح مسلم حدیث ۵۹۵۳ کا خلاصہ
اس حدیث میں رسول اللہ صلى الله عليه وسلم نے اللہ کی طرف سے ملنے والی ہدایت اور علم کو بارش کی مثال سے سمجھایا ہے۔ جیسے بارش زمین پر برستی ہے تو زمین کی مختلف حالتیں ہوتی ہیں۔ کچھ زمین نرم ہوتی ہے جو پانی کو جذب کر کے سبزہ اور فصلیں اگاتی ہے۔ کچھ زمین سخت ہوتی ہے جو پانی کو روک کر لوگوں کو فائدہ دیتی ہے، وہ لوگ اس سے پیتے ہیں، جانور پلاتے ہیں اور کھیتی کرتے ہیں۔ لیکن کچھ زمین بالکل چٹیل ہوتی ہے جو نہ پانی روکتی ہے اور نہ ہی اس سے کچھ اگتا ہے۔ اسی طرح لوگ بھی تین قسم کے ہوتے ہیں۔ ایک وہ جو دین کو سمجھتے ہیں، علم کو قبول کرتے ہیں اور اس پر عمل کر کے دوسروں کو بھی فائدہ دیتے ہیں۔ دوسرے وہ جو خود تو مکمل فائدہ نہیں اٹھاتے مگر علم کو یاد رکھ کر دوسروں تک پہنچاتے ہیں۔ اور تیسرے وہ جو ہدایت کو قبول ہی نہیں کرتے اور اس سے فائدہ نہیں اٹھاتے۔ اس حدیث سے واضح ہوتا ہے کہ اصل کامیابی علمِ دین کو سمجھنے، اس پر عمل کرنے اور دوسروں تک پہنچانے میں ہے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- دین کا علم قبول کرنے والا انسان حقیقی فائدہ اٹھاتا ہے اور اس کی زندگی بہتر ہوتی ہے
- علم کو دوسروں تک پہنچانا بھی ایک بڑی نیکی اور فائدہ دینے والا عمل ہے
- ہدایت کو نظر انداز کرنا انسان کو فائدے سے محروم کر دیتا ہے
