صحیح مسلم حدیث ۲۲۸۲ - ہر مسلمان پر صدقہ فطر

صدقہ فطر ہر مسلمان پر: چھوٹا، بڑا، مرد، عورت

صحیح مسلمحدیث نمبر ۲۲۸۲

وحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ ، حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي فُدَيْكٍ ، أَخْبَرَنَا الضَّحَّاكُ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " فَرَضَ زَكَاةَ الْفِطْرِ مِنْ رَمَضَانَ عَلَى كُلِّ نَفْسٍ مِنَ الْمُسْلِمِينَ ، حُرٍّ أَوْ عَبْدٍ ، أَوْ رَجُلٍ أَوِ امْرَأَةٍ ، صَغِيرٍ أَوْ كَبِيرٍ ، صَاعًا مِنْ تَمْرٍ أَوْ صَاعًا مِنْ شَعِيرٍ " .

عبداللہ بن عمر روایت:

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مقرر کیا صدقہ فطر کا رمضان کے بعد ہر ایک مسلمان پر آزاد ہو یا غلام، مرد ہو یا عورت، چھوٹا ہو یا بڑا ایک صاع کھجور کا یا ایک صاع جَو کا۔

صحیح مسلم حدیث ۲۲۸۲ کا خلاصہ

اس حدیث میں زکوٰۃ الفطر کے دائرے کو بہت واضح کیا گیا ہے۔ سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے رمضان کے بعد صدقہ فطر ہر مسلمان پر مقرر فرمایا۔ اس میں آزاد، غلام، مرد، عورت، چھوٹا اور بڑا سب شامل ہیں۔ حدیث میں مقدار بھی بتائی گئی ہے: ایک صاع کھجور یا ایک صاع جَو۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ صدقہ فطر صرف مال دار مردوں تک محدود بات نہیں، بلکہ گھر کے افراد کی طرف سے بھی اس کا خیال کیا جاتا ہے۔ عام لوگ جب فطرانہ کی حدیث تلاش کرتے ہیں تو وہ یہی جاننا چاہتے ہیں کہ کن لوگوں پر فطرانہ ہے۔ اس روایت کا جواب بالکل سیدھا ہے: ہر مسلمان نفس کے لیے صدقہ فطر کا ذکر آیا ہے۔

اس حدیث سے ہماری تعلیم

  • صدقہ فطر ہر مسلمان کے لیے بیان کیا گیا ہے۔
  • حدیث میں مرد، عورت، چھوٹے اور بڑے سب کا ذکر ہے۔
  • فطرانہ کی مقدار ایک صاع کھجور یا ایک صاع جَو بتائی گئی ہے۔

ترتیبات

زبان

فونٹ کی ترتیبات

عربی فونٹ

عربی فونٹ سائز

24

ترجمہ فونٹ سائز

18

پڑھنے کا لے آؤٹ

ایپ ڈاؤن لوڈ کریں - الحدیث

App Banner

اسلامی علم پھیلانے میں مدد کریں

آپ کی مسلسل حمایت ہمیں اسلام کا پیغام پہنچانے میں مدد کرے گی۔

ہماری مدد کریں