صحیح مسلم حدیث ۲۲۸۳ - صدقہ فطر کی اجناس
زکوٰۃ الفطر کی اجناس: طعام، جَو، کھجور، پنیر اور کشمش
صحیح مسلم : ۲۲۸۳
صحیح مسلمحدیث نمبر ۲۲۸۳
حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى ، قَالَ : قَرَأْتُ عَلَى مَالِكٍ ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ ، عَنْ عِيَاضِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ سَعْدِ بْنِ أَبِي سَرْحٍ ، أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا سَعِيدٍ الْخُدْرِيَّ ، يَقُولُ : " كُنَّا نُخْرِجُ زَكَاةَ الْفِطْرِ صَاعًا مِنْ طَعَامٍ ، أَوْ صَاعًا مِنْ شَعِيرٍ ، أَوْ صَاعًا مِنْ تَمْرٍ ، أَوْ صَاعًا مِنْ أَقِطٍ ، أَوْ صَاعًا مِنْ زَبِيبٍ " .
ابو سعید خدری روایت:
ہم صدقہ فطر نکالتے تھے (یعنی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں) ایک صاع طعام کا (یعنی گیہوں کا) یا ایک صاع جَو کا یا کھجور کا یا پنیر کا یا انگور کا۔
صحیح مسلم حدیث ۲۲۸۳ کا خلاصہ
اس حدیث میں سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ صدقہ فطر کی عملی صورت بیان کرتے ہیں۔ وہ فرماتے ہیں کہ ہم صدقہ فطر ایک صاع طعام، یا ایک صاع جَو، یا کھجور، یا پنیر، یا کشمش سے نکالتے تھے۔ اس روایت میں فطرانہ کی مقدار بھی ایک صاع ہے اور اس کی چند اجناس بھی بتائی گئی ہیں۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے دور میں زکوٰۃ الفطر کھانے کی چیزوں سے ادا کی جاتی تھی۔ حدیث کا اصل پیغام یہی ہے کہ صدقہ فطر رمضان کے اختتام پر ایک معلوم مقدار میں دیا جاتا تھا۔ اس میں اپنی پسند کے دعوے سے زیادہ سنت میں آئے ہوئے طریقے کو سمجھنا اہم ہے۔ فطرانہ کی اجناس کے بارے میں یہ حدیث بہت واضح رہنمائی دیتی ہے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- صحابہ کرام رضی اللہ عنہم صدقہ فطر ایک صاع کی مقدار سے نکالتے تھے۔
- حدیث میں طعام، جَو، کھجور، پنیر اور کشمش کا ذکر ہے۔
- فطرانہ ادا کرتے وقت کھانے کی اجناس کا ذکر حدیث سے ثابت ہے۔
