صحیح مسلم حدیث ۲۲۸۴ - سنت کے مطابق فطرانہ

سنت کے مطابق صدقہ فطر: ایک صاع پر عمل

صحیح مسلمحدیث نمبر ۲۲۸۴

حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْلَمَةَ بْنِ قَعْنَبٍ ، حَدَّثَنَا دَاوُدُ يَعْنِي ابْنَ قَيْسٍ ، عَنْ عِيَاضِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ، قَالَ : " كُنَّا نُخْرِجُ إِذْ كَانَ فِينَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ زَكَاةَ الْفِطْرِ ، عَنْ كُلِّ صَغِيرٍ وَكَبِيرٍ حُرٍّ أَوْ مَمْلُوكٍ صَاعًا مِنْ طَعَامٍ ، أَوْ صَاعًا مِنْ أَقِطٍ ، أَوْ صَاعًا مِنْ شَعِيرٍ ، أَوْ صَاعًا مِنْ تَمْرٍ ، أَوْ صَاعًا مِنْ زَبِيبٍ " ، فَلَمْ نَزَلْ نُخْرِجُهُ حَتَّى قَدِمَ عَلَيْنَا مُعَاوِيَةُ بْنُ أَبِي سُفْيَانَ حَاجًّا أَوْ مُعْتَمِرًا ، فَكَلَّمَ النَّاسَ عَلَى الْمِنْبَرِ فَكَانَ فِيمَا كَلَّمَ بِهِ النَّاسَ ، أَنْ قَالَ : إِنِّي أَرَى أَنَّ مُدَّيْنِ مِنْ سَمْرَاءِ الشَّامِ تَعْدِلُ صَاعًا مِنْ تَمْرٍ ، فَأَخَذَ النَّاسُ بِذَلِكَ ، قَالَ أَبُو سَعِيدٍ : فَأَمَّا أَنَا فَلَا أَزَالُ أُخْرِجُهُ كَمَا كُنْتُ أُخْرِجُهُ أَبَدًا مَا عِشْتُ .

ابو سعید خدری روایت:

ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں صدقہ فطر ہر چھوٹے، بڑے، آزاد، غلام کی طرف سے ایک صاع گیہوں یا ایک صاع پنیر یا جَو یا کھجور یا انگور نکالتے تھے پھر جب سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ حج کو یا عمرہ کو آئے تو لوگوں میں منبر پر وعظ کیا اور اس میں کہا کہ میں جانتا ہوں کہ دو مد (یعنی نصف صاع) شام کے سرخ گیہوں کا برابر ہوتا ہے ایک صاع کھجور کے (یعنی قیمت میں) سو لوگوں نے اس کو لے لیا اور ابوسعید نے کہا: میں تو وہی نکالے جاؤں گا جو نکالتا تھا (یعنی ایک صاع) جب تک جیوں گا (سبحان اللہ! یہ اتباع تھا حدیث کا اور نفرت تھی رائے اور قیاس سے)۔

صحیح مسلم حدیث ۲۲۸۴ کا خلاصہ

اس حدیث میں سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے کا عمل بیان کرتے ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ ہم ہر چھوٹے، بڑے، آزاد اور غلام کی طرف سے صدقہ فطر ایک صاع طعام، پنیر، جَو، کھجور یا کشمش سے نکالتے تھے۔ بعد میں سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ نے شام کے سرخ گیہوں کے دو مد کو ایک صاع کھجور کے برابر سمجھا، تو لوگوں نے اسے اختیار کیا۔ مگر ابوسعید رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ میں وہی نکالتا رہوں گا جو پہلے نکالتا تھا۔ اس روایت کا مرکزی مضمون صدقہ فطر کی مقدار اور سنت کی پیروی ہے۔ حدیث ہمیں دکھاتی ہے کہ فطرانہ کے معاملے میں صحابی نے اپنے سابقہ عمل کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے کے عمل سے جوڑے رکھا۔

اس حدیث سے ہماری تعلیم

  • رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں صدقہ فطر ایک صاع دیا جاتا تھا۔
  • فطرانہ چھوٹے، بڑے، آزاد اور غلام کی طرف سے ادا کیا جاتا تھا۔
  • ابوسعید رضی اللہ عنہ نے اپنے عمل کو سابقہ سنت کے مطابق رکھنے کا اظہار کیا۔

ترتیبات

زبان

فونٹ کی ترتیبات

عربی فونٹ

عربی فونٹ سائز

24

ترجمہ فونٹ سائز

18

پڑھنے کا لے آؤٹ

ایپ ڈاؤن لوڈ کریں - الحدیث

App Banner

اسلامی علم پھیلانے میں مدد کریں

آپ کی مسلسل حمایت ہمیں اسلام کا پیغام پہنچانے میں مدد کرے گی۔

ہماری مدد کریں