صحیح مسلم حدیث ۲۲۸۵ - فطرانہ کی تین اجناس
صدقہ فطر کی تین اجناس: کھجور، پنیر اور جَو
صحیح مسلم : ۲۲۸۵
صحیح مسلمحدیث نمبر ۲۲۸۵
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، عَنْ مَعْمَرٍ ، عَنْ إِسْمَاعِيلَ بْنِ أُمَيَّةَ ، قَالَ : أَخْبَرَنِي عِيَاضُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ سَعْدِ بْنِ أَبِي سَرْحٍ ، أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا سَعِيدٍ الْخُدْرِيَّ ، يَقُولُ : " كُنَّا نُخْرِجُ زَكَاةَ الْفِطْرِ وَرَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِينَا ، عَنْ كُلِّ صَغِيرٍ وَكَبِيرٍ حُرٍّ وَمَمْلُوكٍ ، مِنْ ثَلَاثَةِ أَصْنَافٍ : صَاعًا مِنْ تَمْرٍ ، صَاعًا مِنْ أَقِطٍ ، صَاعًا مِنْ شَعِيرٍ " ، فَلَمْ نَزَلْ نُخْرِجُهُ كَذَلِكَ ، حَتَّى كَانَ مُعَاوِيَةُ فَرَأَى أَنَّ مُدَّيْنِ مِنْ بُرٍّ تَعْدِلُ صَاعًا مِنْ تَمْرٍ ، قَالَ أَبُو سَعِيدٍ : فَأَمَّا أَنَا فَلَا أَزَالُ أُخْرِجُهُ كَذَلِكَ .
ترجمہ وہ جو اوپر گزرا۔
صحیح مسلم حدیث ۲۲۸۵ کا خلاصہ
اس روایت میں سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ صدقہ فطر کے بارے میں اپنا عملی بیان دیتے ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے درمیان موجود تھے تو ہم ہر چھوٹے، بڑے، آزاد اور غلام کی طرف سے صدقہ فطر نکالتے تھے۔ اس روایت میں تین اجناس کا ذکر آیا ہے: ایک صاع کھجور، ایک صاع پنیر اور ایک صاع جَو۔ پھر سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ نے گندم کے دو مد کو ایک صاع کھجور کے برابر سمجھا، لیکن ابوسعید رضی اللہ عنہ نے کہا کہ میں اسی طرح نکالتا رہوں گا۔ اس حدیث میں فطرانہ کی مقدار، اس کی اجناس، اور پہلے عمل پر قائم رہنے کا پہلو صاف نظر آتا ہے۔ زکوٰۃ الفطر کے مسئلے میں یہ روایت بہت خاص ہے کیونکہ یہ صحابی کے مسلسل عمل کو بیان کرتی ہے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- اس روایت میں صدقہ فطر کے لیے کھجور، پنیر اور جَو کا ذکر ہے۔
- فطرانہ ہر چھوٹے، بڑے، آزاد اور غلام کی طرف سے ادا کیا جاتا تھا۔
- ابوسعید رضی اللہ عنہ نے اپنے سابقہ عمل کو جاری رکھنے کی بات کی۔
