صحیح مسلم حدیث ۲۲۸۷ - ایک صاع فطرانہ پر قائم رہنا

صدقہ فطر میں ایک صاع: ابوسعید رضی اللہ عنہ کا عمل

صحیح مسلمحدیث نمبر ۲۲۸۷

وحَدَّثَنِي عَمْرٌو النَّاقِدُ ، حَدَّثَنَا حَاتِمُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ ، عَنْ ابْنِ عَجْلَانَ ، عَنْ عِيَاضِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي سَرْحٍ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ، أَنَّ مُعَاوِيَةَ لَمَّا جَعَلَ نِصْفَ الصَّاعِ مِنَ الْحِنْطَةِ عَدْلَ صَاعٍ مِنْ تَمْرٍ ، أَنْكَرَ ذَلِكَ أَبُو سَعِيدٍ وَقَالَ : " لَا أُخْرِجُ فِيهَا إِلَّا الَّذِي كُنْتُ أُخْرِجُ فِي عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، صَاعًا مِنْ تَمْرٍ أَوْ صَاعًا مِنْ زَبِيبٍ أَوْ صَاعًا مِنْ شَعِيرٍ أَوْ صَاعًا مِنْ أَقِطٍ " .

ابوسعید روایت:

جب سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ نے نصف صاع کھجور کو ایک صاع گیہوں کے برابر مقرر کیا تو سیدنا ابوسعید رضی اللہ عنہ نے انکار کیا اور کہا میں تو وہی دوں گا جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں دیتا تھا ایک صاع کھجور یا انگور یا جَو یا پنیر۔

صحیح مسلم حدیث ۲۲۸۷ کا خلاصہ

اس حدیث میں صدقہ فطر کے بارے میں ایک اہم واقعہ بیان ہوا ہے۔ سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ نے نصف صاع گیہوں کو ایک صاع کھجور کے برابر مقرر کیا، تو سیدنا ابوسعید رضی اللہ عنہ نے اس پر اپنا اختلاف ظاہر کیا۔ انہوں نے کہا کہ میں اسی چیز سے صدقہ فطر نکالوں گا جس سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں نکالتا تھا: ایک صاع کھجور، یا کشمش، یا جَو، یا پنیر۔ اس روایت میں اصل بات فطرانہ کی مقدار اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے کے عمل سے وابستگی ہے۔ یہ بھی سمجھ آتا ہے کہ صحابہ کے ہاں اس مسئلے میں مقدار کا بہت خیال تھا۔ فطرانہ کی مقدار، ایک صاع، اور صدقہ فطر کی اجناس کے بارے میں یہ حدیث صاف رہنمائی دیتی ہے۔

اس حدیث سے ہماری تعلیم

  • ابوسعید رضی اللہ عنہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے کے عمل کو ترجیح دی۔
  • حدیث میں ایک صاع کھجور، کشمش، جَو یا پنیر کا ذکر ہے۔
  • صدقہ فطر میں مقدار اور جنس دونوں کا خیال رکھا گیا۔

ترتیبات

زبان

فونٹ کی ترتیبات

عربی فونٹ

عربی فونٹ سائز

24

ترجمہ فونٹ سائز

18

پڑھنے کا لے آؤٹ

ایپ ڈاؤن لوڈ کریں - الحدیث

App Banner

اسلامی علم پھیلانے میں مدد کریں

آپ کی مسلسل حمایت ہمیں اسلام کا پیغام پہنچانے میں مدد کرے گی۔

ہماری مدد کریں