صحیح مسلم حدیث ۲۲۸۸ - نماز عید سے پہلے صدقہ فطر

صدقہ فطر کا وقت: نماز عید سے پہلے ادا کریں

صحیح مسلمحدیث نمبر ۲۲۸۸

حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى ، أَخْبَرَنَا أَبُو خَيْثَمَةَ ، عَنْ مُوسَى بْنِ عُقْبَةَ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " أَمَرَ بِزَكَاةِ الْفِطْرِ أَنْ تُؤَدَّى قَبْلَ خُرُوجِ النَّاسِ إِلَى الصَّلَاةِ " .

عبداللہ بن عمر روایت:

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حکم دیا کہ صدقہ فطر ادا کیا جائے نماز کو نکلنے سے پہلے۔

صحیح مسلم حدیث ۲۲۸۸ کا خلاصہ

اس حدیث میں صدقہ فطر کے وقت کو واضح کیا گیا ہے۔ سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حکم دیا کہ صدقہ فطر لوگوں کے نماز کے لیے نکلنے سے پہلے ادا کیا جائے۔ یہاں نماز سے مراد وہ نماز ہے جس کے لیے لوگ عید کے دن نکلتے ہیں، اور متن میں اصل زور اسی بات پر ہے کہ فطرانہ تاخیر کے بجائے وقت پر دیا جائے۔ یہ روایت فطرانہ کی مقدار کے بجائے اس کے وقت پر بات کرتی ہے۔ عام طور پر لوگ پوچھتے ہیں کہ صدقہ فطر کب ادا کریں؟ اس حدیث کا جواب مختصر اور صاف ہے: لوگوں کے نماز کو جانے سے پہلے۔ اس لیے زکوٰۃ الفطر کی ادائیگی میں صرف مقدار نہیں، وقت بھی اہم ہے۔

اس حدیث سے ہماری تعلیم

  • صدقہ فطر نماز کے لیے نکلنے سے پہلے ادا کرنے کا حکم آیا ہے۔
  • فطرانہ کے معاملے میں وقت کا خیال رکھنا چاہیے۔
  • اس روایت کا اصل مضمون ادائیگی کا وقت ہے، مقدار نہیں۔

ترتیبات

زبان

فونٹ کی ترتیبات

عربی فونٹ

عربی فونٹ سائز

24

ترجمہ فونٹ سائز

18

پڑھنے کا لے آؤٹ

ایپ ڈاؤن لوڈ کریں - الحدیث

App Banner

اسلامی علم پھیلانے میں مدد کریں

آپ کی مسلسل حمایت ہمیں اسلام کا پیغام پہنچانے میں مدد کرے گی۔

ہماری مدد کریں