صحیح مسلم حدیث ۲۲۸۱ - صدقہ فطر کی مقدار

صدقہ فطر کی مقدار: ایک صاع کھجور یا جَو

صحیح مسلمحدیث نمبر ۲۲۸۱

حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، حَدَّثَنَا لَيْثٌ . ح وحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رُمْحٍ ، أَخْبَرَنَا اللَّيْثُ ، عَنْ نَافِعٍ ، أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ ، قَالَ : إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " أَمَرَ بِزَكَاةِ الْفِطْرِ صَاعٍ مِنْ تَمْرٍ ، أَوْ صَاعٍ مِنْ شَعِيرٍ " ، قَالَ ابْنُ عُمَرَ : فَجَعَلَ النَّاسُ عَدْلَهُ مُدَّيْنِ مِنْ حِنْطَةٍ .

عبداللہ بن عمر روایت:

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حکم کیا صدقہ فطر کا ایک صاع کھجور کا یا ایک صاع جَو کا۔ سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما نے کہا کہ پھر لوگوں نے تجویز کیا کہ دو مد گیہوں کے (جو قیمت میں اس کے برابر ہوتے ہیں)۔

صحیح مسلم حدیث ۲۲۸۱ کا خلاصہ

اس حدیث میں صدقہ فطر کی مقدار صاف انداز میں بیان ہوئی ہے۔ سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے صدقہ فطر کے لیے ایک صاع کھجور یا ایک صاع جَو کا حکم دیا۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ زکوٰۃ الفطر کوئی عام نفلی خرچ نہیں بلکہ رمضان کے بعد ادا کیا جانے والا مقرر صدقہ ہے۔ حدیث کے الفاظ میں اصل مقدار ایک صاع ہے، اور اسی کو بنیاد بنایا گیا۔ بعد میں لوگوں نے دو مد گیہوں کو اس کے برابر سمجھا۔ یہاں اصل سبق یہ ہے کہ صدقہ فطر کی ادائیگی میں مقدار، جنس اور سنت کے الفاظ کا خیال رکھا جائے۔ عام فہم لفظوں میں، فطرانہ دیتے وقت اندازے کے بجائے صحیح شرعی مقدار جاننا بہتر ہے۔

اس حدیث سے ہماری تعلیم

  • صدقہ فطر کے لیے حدیث میں ایک صاع کھجور یا ایک صاع جَو کا ذکر آیا ہے۔
  • فطرانہ ادا کرتے وقت مقدار کا خیال رکھنا چاہیے۔
  • صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے غذائی اجناس کی قیمت اور مقدار کے فرق کو سمجھا۔

ترتیبات

زبان

فونٹ کی ترتیبات

عربی فونٹ

عربی فونٹ سائز

24

ترجمہ فونٹ سائز

18

پڑھنے کا لے آؤٹ

ایپ ڈاؤن لوڈ کریں - الحدیث

App Banner

اسلامی علم پھیلانے میں مدد کریں

آپ کی مسلسل حمایت ہمیں اسلام کا پیغام پہنچانے میں مدد کرے گی۔

ہماری مدد کریں