صحیح مسلم حدیث ۲۲۸۹ - فطرانہ نماز سے پہلے
فطرانہ کب دینا ہے؟ نماز عید سے پہلے
صحیح مسلم : ۲۲۸۹
صحیح مسلمحدیث نمبر ۲۲۸۹
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ ، حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي فُدَيْكٍ ، أَخْبَرَنَا الضَّحَّاكُ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " أَمَرَ بِإِخْرَاجِ زَكَاةِ الْفِطْرِ أَنْ تُؤَدَّى قَبْلَ خُرُوجِ النَّاسِ إِلَى الصَّلَاةِ " .
عبداللہ بن عمر روایت:
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حکم دیا کہ صدقہ فطر ادا کر دیا جائے لوگوں کے نماز کو جانے سے پہلے۔
صحیح مسلم حدیث ۲۲۸۹ کا خلاصہ
یہ حدیث صدقہ فطر کے وقت کو دوبارہ بہت صاف لفظوں میں بیان کرتی ہے۔ سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حکم دیا کہ زکوٰۃ الفطر لوگوں کے نماز کے لیے نکلنے سے پہلے ادا کر دی جائے۔ اس روایت کا مرکزی پیغام یہی ہے کہ فطرانہ کو آخری وقت کے بعد نہ چھوڑا جائے، بلکہ نماز سے پہلے اس کی ادائیگی ہو۔ اس میں نہ اجناس کی تفصیل ہے، نہ مقدار کی نئی بات، بلکہ صرف وقت کی تاکید ہے۔ جو لوگ سرچ کرتے ہیں کہ فطرانہ کب دینا چاہیے یا صدقہ فطر کا صحیح وقت کیا ہے، ان کے لیے یہ حدیث بہت سیدھی رہنمائی دیتی ہے۔ آسان الفاظ میں، فطرانہ عید کی نماز سے پہلے ادا کیا جائے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- زکوٰۃ الفطر نماز کے لیے نکلنے سے پہلے ادا کی جائے۔
- اس حدیث میں ادائیگی کے وقت پر خاص توجہ ہے۔
- صدقہ فطر کو وقت پر ادا کرنا متن کا صاف پیغام ہے۔
