صحیح مسلم حدیث ۶۱ - گواہی اور راوی کی ثقاہت
راوی کی ثقاہت: علم کافی نہیں، اعتماد بھی ضروری ہے
صحیح مسلم : ۶۱
صحیح مسلمحدیث نمبر ۶۱
حَدَّثَنِي حَجَّاجُ بْنُ الشَّاعِرِ ، حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ ، قَالَ : قَالَ أَيُّوبُ : إِنَّ لِي جَارًا ، ثُمَّ ذَكَرَ مِنْ فَضْلِهِ ، وَلَوْ شَهِدَ عِنْدِي عَلَى تَمْرَتَيْنِ ، مَا رَأَيْتُ شَهَادَتَهُ جَائِزَةً ،
ایوب روایت:
میرا ایک ہمسایہ ہے پھر بیان کی اس کی فضیلت (یعنی اس کی لیاقت اور علم کی تعریف کی) اور کہا کہ اگر وہ میرے سامنے دو کھجوروں پر گواہی دے تو میں اس کی گواہی درست نہ سمجھوں۔
صحیح مسلم حدیث ۶۱ کا خلاصہ
اس روایت کا مرکزی موضوع راوی کی ثقاہت اور گواہی کا معیار ہے۔ ایوب نے اپنے ایک ہمسائے کی خوبی اور علمی فضیلت کا ذکر کیا، مگر ساتھ یہ بھی کہا کہ اگر وہ دو کھجوروں پر بھی گواہی دے تو وہ اس کی گواہی کو درست نہ سمجھیں گے۔ اس سے یہ بات سمجھ آتی ہے کہ حدیث کی تحقیق میں صرف ظاہری علم، بول چال یا شہرت کافی نہیں ہوتی۔ اصل سوال یہ ہے کہ آدمی بات نقل کرنے میں کتنا قابل اعتماد ہے۔ یہی وجہ ہے کہ حدیث کی سند، راوی کی تحقیق، اور خبر کی تصدیق جیسے الفاظ اس موضوع میں بہت اہم ہیں۔ کسی شخص کی کچھ اچھی باتیں اپنی جگہ، مگر جب بات دین کی روایت یا گواہی کی ہو تو احتیاط لازم ہے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- کسی شخص کی علمی خوبی کے باوجود اس کی گواہی الگ سے پرکھی جا سکتی ہے۔
- حدیث یا گواہی قبول کرنے میں اعتماد بنیادی شرط ہے۔
- دین کی بات نقل کرتے وقت شخصیت کے بجائے سچائی اور ضبط کو دیکھا جاتا ہے۔
- احتیاط کا مطلب بدگمانی نہیں، بلکہ روایت کی حفاظت ہے۔
