صحیح مسلم حدیث ۶۲۴۱ - رب کی رضا چاہنے والوں کی عزت

رب کی رضا چاہنے والوں کی حدیث: کمزور سمجھ کر کسی کو دور نہ کرو

صحیح مسلمحدیث نمبر ۶۲۴۱

حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْأَسَدِيُّ ، عَنْ إِسْرَائِيلَ ، عَنْ الْمِقْدَامِ بْنِ شُرَيْحٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ سَعْدٍ ، قَالَ : " كُنَّا مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سِتَّةَ نَفَرٍ ، فَقَالَ الْمُشْرِكُونَ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : اطْرُدْ هَؤُلَاءِ لَا يَجْتَرِئُونَ عَلَيْنَا ، قَالَ : وَكُنْتُ أَنَا ، وَابْنُ مَسْعُودٍ ، وَرَجُلٌ مِنْ هُذَيْلٍ ، وَبِلَالٌ ، وَرَجُلَانِ لَسْتُ أُسَمِّيهِمَا ، فَوَقَعَ فِي نَفْسِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، مَا شَاءَ اللَّهُ أَنْ يَقَعَ فَحَدَّثَ نَفْسَهُ ، فَأَنْزَلَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ : وَلا تَطْرُدِ الَّذِينَ يَدْعُونَ رَبَّهُمْ بِالْغَدَاةِ وَالْعَشِيِّ يُرِيدُونَ وَجْهَهُ سورة الأنعام آية 52 .

سیدنا سعد روایت:

ہم چھ آدمی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تھے۔ مشرکوں نے کہا: آپ صلی اللہ علیہ وسلم ان لوگوں کو اپنے پاس سے بھیج دیجئیے یہ جرأت نہ کر یں گے ہم پر، ان لوگوں میں میں بھی تھا، سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ تھے اور ایک شخص ہذیل کا تھا اور سیدنا بلال رضی اللہ عنہ اور دو شخص اور تھے جن کا میں نام نہیں لیتا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے دل میں جو اللہ نے چاہا وہ آیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دل ہی دل میں باتیں کیں،تب اللہ تعالیٰ نے یہ آیت اتاری «وَلاَ تَطْرُدِ الَّذِينَ يَدْعُونَ رَبَّهُمْ بِالْغَدَاةِ وَالْعَشِيِّ يُرِيدُونَ وَجْهَهُ» (الأنعام: ۵۲) ”مت ہٹا ان لوگوں کو جو پکارتے ہیں اپنے رب کو صبح اور شام اور چاہتے ہیں اس کی رضامندی۔“

صحیح مسلم حدیث ۶۲۴۱ کا خلاصہ

یہ حدیث صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے مقام اور اللہ کی رضا چاہنے والوں کی عزت کو بہت صاف انداز میں بیان کرتی ہے۔ مشرکوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے کہا کہ ان چند ساتھیوں کو اپنے پاس سے ہٹا دیں، تاکہ وہ آپ کے پاس بیٹھ سکیں۔ ان ساتھیوں میں سیدنا سعد رضی اللہ عنہ، سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ، سیدنا بلال رضی اللہ عنہ اور دوسرے مخلص مسلمان شامل تھے۔ پھر اللہ تعالیٰ نے آیت نازل فرمائی کہ ان لوگوں کو دور نہ کریں جو صبح و شام اپنے رب کو پکارتے ہیں اور اس کی رضا چاہتے ہیں۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ اصل عزت مال، رتبے یا ظاہری حیثیت سے نہیں، بلکہ دعا، اخلاص اور اللہ کی رضا کی طلب سے ہے۔ یہی نیت اور اخلاص والی حدیث کا مرکزی پیغام ہے۔

اس حدیث سے ہماری تعلیم

  • اللہ کے نزدیک بندے کی قدر اس کے اخلاص اور رب کی رضا چاہنے سے ہے۔
  • کسی مخلص مسلمان کو دنیاوی حیثیت کی وجہ سے حقیر نہیں سمجھنا چاہیے۔
  • دعا اور اللہ کو یاد کرنا بندے کی عزت کا سبب بنتا ہے۔
  • دینی مجلس میں معیار ایمان اور اخلاص ہونا چاہیے، نہ کہ سماجی مقام۔

اس سے متعلق احادیث

ترتیبات

زبان

فونٹ کی ترتیبات

عربی فونٹ

عربی فونٹ سائز

24

ترجمہ فونٹ سائز

18

پڑھنے کا لے آؤٹ

ایپ ڈاؤن لوڈ کریں - الحدیث

App Banner

اسلامی علم پھیلانے میں مدد کریں

آپ کی مسلسل حمایت ہمیں اسلام کا پیغام پہنچانے میں مدد کرے گی۔

ہماری مدد کریں