صحیح مسلم حدیث ۶۲۴۲ - طلحہ اور سعد کی ثابت قدمی
طلحہ اور سعد رضی اللہ عنہما کی ثابت قدمی کی حدیث
صحیح مسلم : ۶۲۴۲
صحیح مسلمحدیث نمبر ۶۲۴۲
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ الْمُقَدَّمِيُّ ، وَحَامِدُ بْنُ عُمَرَ الْبَكْرَاوِيُّ ، وَمُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْأَعْلَى ، قَالُوا : حَدَّثَنَا الْمُعْتَمِرُ وَهُوَ ابْنُ سُلَيْمَانَ ، قَالَ : سَمِعْتُ أَبِي ، عَنْ أَبِي عُثْمَانَ ، قَالَ : " لَمْ يَبْقَ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي بَعْضِ تِلْكَ الْأَيَّامِ الَّتِي قَاتَلَ فِيهِنَّ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ غَيْرُ طَلْحَةَ ، وَسَعْدٍ " ، عَنْ حَدِيثِهِمَا " .
ابوعثمان روایت:
ان دنوں میں جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم لڑتے تھے (کا فروں سے) بعض دن کوئی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ نہ رہا سوائے طلحہ اور سعد رضی اللہ عنہما کے۔
صحیح مسلم حدیث ۶۲۴۲ کا خلاصہ
یہ حدیث صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کی ثابت قدمی اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے وفاداری کو بیان کرتی ہے۔ ابو عثمان کے بیان کے مطابق بعض ایسے دن آئے جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کفار سے مقابلہ کر رہے تھے اور اس وقت آپ کے ساتھ طلحہ اور سعد رضی اللہ عنہما کے سوا کوئی باقی نہ رہا۔ حدیث کا اصل پیغام یہی ہے کہ مشکل وقت میں ساتھ دینا بہت بڑی بات ہے۔ یہاں کسی لمبی تفصیل کے بجائے صرف ان دونوں صحابہ کی خاص حالت بیان ہوئی ہے کہ وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ موجود رہے۔ اس لیے طلحہ اور سعد کی فضیلت، صحابہ کی بہادری، اور رسول اللہ صلى الله عليه وسلم کا ساتھ دینے جیسے الفاظ اس حدیث کے لیے اہم ہیں۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- مشکل وقت میں حق کے ساتھ کھڑے رہنا بڑی فضیلت کی بات ہے۔
- صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے خطرے کے وقت بھی رسول اللہ صلى الله عليه وسلم کا ساتھ دیا۔
- ثابت قدمی صرف باتوں سے نہیں، عمل سے ظاہر ہوتی ہے۔
- دین کے کام میں وفاداری اور حوصلہ بہت اہم ہیں۔
