صحیح مسلم حدیث ۶۲۶۳ - باپ کے نام سے نسبت
باپ کے نام سے نسبت: زید بن حارثہ کی روایت کا دوسرا بیان
صحیح مسلم : ۶۲۶۳
صحیح مسلمحدیث نمبر ۶۲۶۳
حَدَّثَنِي أَحْمَدُ بْنُ سَعِيدٍ الدَّارِمِيُّ ، حَدَّثَنَا حَبَّانُ ، حَدَّثَنَا وُهَيْبٌ ، حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ عُقْبَةَ ، حَدَّثَنِي سَالِمٌ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ ، بِمِثْلِهِ .
عبداللہ روایت:
عبداللہ سے اسی کی مانند مروی ہے۔
صحیح مسلم حدیث ۶۲۶۳ کا خلاصہ
یہ حدیث پچھلی روایت کے اسی مضمون کو بیان کرتی ہے۔ اس میں عبداللہ رضی اللہ عنہ سے اسی طرح نقل ہوا کہ زید بن حارثہ رضی اللہ عنہ کو پہلے زید بن محمد کہا جاتا تھا۔ پھر قرآن میں حکم آیا کہ لوگوں کو ان کے باپوں کی طرف نسبت کر کے پکارو۔ اس سے نسب کی حدیث کا مرکزی پیغام پھر واضح ہوتا ہے کہ اصل شناخت کو درست رکھنا چاہیے۔ یہاں کوئی لمبی تفصیل نہیں، بلکہ روایت مختصر ہے اور کہتی ہے کہ یہی مضمون دوسری سند سے بھی مروی ہے۔ زید بن حارثہ کی حدیث تلاش کرنے والے افراد کے لیے یہ روایت اس بات کی تائید کرتی ہے کہ صحابہ نے قرآن کے حکم کو قبول کیا اور نسبت میں اصل والد کا نام اختیار کیا۔ اس میں متبنیٰ، سرپرستی اور محبت کا ذکر پس منظر میں ہے، مگر اصل سبق یہی ہے کہ نام اور نسبت میں سچائی باقی رکھی جائے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- یہ روایت پچھلی حدیث کے مضمون کی تائید کرتی ہے۔
- کسی کو اس کے حقیقی والد کی نسبت سے پکارنا قرآن کی ہدایت کے مطابق ہے۔
- مختصر روایت بھی اصل حکم کو مضبوط انداز میں سمجھا دیتی ہے۔
