صحیح مسلم حدیث ۶۲۶۲ - نسب کی درست نسبت
نسب کی حدیث: زید بن حارثہ کو ان کے والد کے نام سے پکارنے کا حکم
صحیح مسلم : ۶۲۶۲
صحیح مسلمحدیث نمبر ۶۲۶۲
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْقَارِيُّ ، عَنْ مُوسَى بْنِ عُقْبَةَ ، عَنْ سَالِمِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، عَنْ أَبِيهِ ، أَنَّهُ كَانَ يَقُولُ : " مَا كُنَّا نَدْعُ وَزَيْدَ بْنَ حَارِثَةَ إِلَّا زَيْدَ بْنَ مُحَمَّدٍ ، حَتَّى نَزَلَ فِي الْقُرْآنِ : ادْعُوهُمْ لآبَائِهِمْ هُوَ أَقْسَطُ عِنْدَ اللَّهِ سورة الأحزاب آية 5 " ، قَالَ الشَّيْخُ أَبُو أَحْمَدَ مُحَمَّدُ بْنُ عِيسَى : أَخْبَرَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ السَّرَّاجُ ، وَمُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ يُوسُفَ الدُّوَيْرِيُّ ، قَالَا : حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ بِهَذَا الْحَدِيثِ ،
عبداللہ بن عمر روایت:
ہم زید بن حارثہ کو زید بن محمد کہا کر تے تھے (اس وجہ سے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کو متبنیٰ کیا تھا) یہاں تک کہ قرآن میں اترا:«ادْعُوهُمْ لِآبَائِهِمْ هُوَ أَقْسَطُ عِندَ اللَّـهِ» (۳۳-الأحزاب: ۵) ”پکارو ان کو ان کے باپوں کی طرف نسبت کر کے یہ اچھا ہے اللہ کے نزدیک۔“
صحیح مسلم حدیث ۶۲۶۲ کا خلاصہ
اس حدیث کا اصل موضوع نسب کی درست نسبت ہے۔ سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ صحابہ کرام زید بن حارثہ رضی اللہ عنہ کو زید بن محمد کہا کرتے تھے، کیونکہ رسول اللہ صلى الله عليه وسلم نے انہیں متبنیٰ بنایا تھا۔ پھر قرآن کی آیت نازل ہوئی کہ انہیں ان کے باپوں کی طرف نسبت کر کے پکارو، یہی اللہ کے نزدیک زیادہ انصاف والی بات ہے۔ اس کے بعد نسبت کا طریقہ واضح ہو گیا۔ اس روایت میں زید بن حارثہ کی حدیث، نسب کی حدیث اور باپ کے نام سے پکارنے کا مسئلہ صاف الفاظ میں آتا ہے۔ حدیث ہمیں یہ سکھاتی ہے کہ محبت اور قربت اپنی جگہ ہے، مگر شناخت میں اصل نسب کو درست رکھنا چاہیے۔ بات بہت سادہ ہے کہ کسی شخص کی نسبت ایسی ہو جو اس کے حقیقی خاندان سے ملتی ہو۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- کسی شخص کو اس کے حقیقی والد کی نسبت سے پکارنا درست طریقہ ہے۔
- محبت یا سرپرستی کے باوجود نسب کی اصل شناخت بدلنی نہیں چاہیے۔
- قرآن کی ہدایت آنے کے بعد صحابہ نے اپنے پکارنے کا انداز بدل لیا۔
