صحیح مسلم حدیث ۶۲۶۹ - نبی صلى الله عليه وسلم کا بچوں کو بٹھانا
نبی صلى الله عليه وسلم کا بچوں کو سواری پر بٹھانا: محبت اور شفقت کی حدیث
صحیح مسلم : ۶۲۶۹
صحیح مسلمحدیث نمبر ۶۲۶۹
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحِيمِ بْنُ سُلَيْمَانَ ، عَنْ عَاصِمٍ ، حَدَّثَنِي مُوَرِّقٌ ، حَدَّثَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ جَعْفَرٍ ، قَالَ : " كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا قَدِمَ مِنْ سَفَرٍ تُلُقِّيَ بِنَا ، قَالَ : فَتُلُقِّيَ بِي وَبِالْحَسَنِ ، أَوْ بِالْحُسَيْنِ ، قَالَ : فَحَمَلَ أَحَدَنَا بَيْنَ يَدَيْه وَالْآخَرَ خَلْفَهُ ، حَتَّى دَخَلْنَا الْمَدِينَةَ " .
عبداللہ بن جعفر روایت:
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب سفر سے تشریف لاتے تو ہم لوگوں سے ملتے ایک بار مجھ سے ملے اور سیدنا حسن اور سیدنا حسین رضی اللہ عنہما سے، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہم میں سے ایک کو سامنے بٹھایا اور ایک کو پیچھے یہاں تک کہ مدینہ میں آئے۔
صحیح مسلم حدیث ۶۲۶۹ کا خلاصہ
اس روایت میں بھی بچوں سے محبت کا وہی پیارا مضمون ہے۔ عبداللہ بن جعفر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلى الله عليه وسلم جب سفر سے واپس آتے تو بچے آپ صلى الله عليه وسلم سے ملنے آتے۔ ایک موقع پر وہ خود اور سیدنا حسن یا سیدنا حسین رضی اللہ عنہما آپ صلى الله عليه وسلم سے ملے۔ نبی صلى الله عليه وسلم نے ان میں سے ایک کو اپنے سامنے بٹھایا اور دوسرے کو پیچھے بٹھایا، یہاں تک کہ مدینہ میں داخل ہوئے۔ بچوں سے شفقت کی حدیث میں یہ بات کھل کر آتی ہے کہ نبی صلى الله عليه وسلم بچوں کو نظر انداز نہیں کرتے تھے، بلکہ انہیں اپنی سواری پر جگہ دیتے اور خوشی کا موقع بناتے تھے۔ یہ روایت گھر کے بچوں کے ساتھ اچھے سلوک کا بہت آسان سبق دیتی ہے۔ اس میں کوئی سخت حکم نہیں، بلکہ نبی صلى الله عليه وسلم کا نرم عمل ہے، جس سے محبت، قربت اور بچوں کی دل جوئی کا انداز سمجھ آتا ہے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- نبی صلى الله عليه وسلم بچوں کو اپنے قریب رکھتے اور سواری پر جگہ دیتے تھے۔
- سفر سے واپسی پر بچوں سے ملنا محبت کا خوبصورت طریقہ ہے۔
- بچوں کی دل جوئی نبی صلى الله عليه وسلم کے نرم مزاج عمل سے ظاہر ہوتی ہے۔
