صحیح مسلم حدیث ۶۲۷۰ - راز داری کی امانت

راز داری کی حدیث: نبی صلى الله عليه وسلم کی بات کو امانت سمجھ کر محفوظ رکھنا

صحیح مسلمحدیث نمبر ۶۲۷۰

حَدَّثَنَا شَيْبَانُ بْنُ فَرُّوخَ ، حَدَّثَنَا مَهْدِيُّ بْنُ مَيْمُونٍ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي يَعْقُوبَ ، عَنْ الْحَسَنِ بْنِ سَعْدٍ مَوْلَى الْحَسَنِ بْنِ عَلِيٍّ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ جَعْفَرٍ ، قَالَ : " أَرْدَفَنِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ذَاتَ يَوْمٍ خَلْفَهُ ، فَأَسَرَّ إِلَيَّ حَدِيثًا لَا أُحَدِّثُ بِهِ أَحَدًا مِنَ النَّاسِ " .

عبداللہ بن جعفر روایت:

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک دن مجھے اپنے پیچھے بٹھایا اور چپکے سے ایک بات فرمائی جس کو میں کسی سے بیان نہ کروں گا۔

صحیح مسلم حدیث ۶۲۷۰ کا خلاصہ

اس حدیث کا اصل موضوع راز داری ہے۔ عبداللہ بن جعفر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلى الله عليه وسلم نے ایک دن انہیں اپنے پیچھے سواری پر بٹھایا اور چپکے سے ایک بات فرمائی۔ پھر وہ کہتے ہیں کہ میں اس بات کو لوگوں میں سے کسی سے بیان نہیں کروں گا۔ اس روایت میں بات کی تفصیل نہیں دی گئی، اس لیے ہمیں بھی اس سے آگے کوئی دعویٰ نہیں کرنا چاہیے۔ راز داری کی حدیث کا سبق یہی ہے کہ اگر کوئی بات اعتماد کے ساتھ کہی جائے تو اسے امانت سمجھ کر محفوظ رکھا جائے۔ یہاں نبی صلى الله عليه وسلم کا ایک صحابی کو اپنے پیچھے بٹھانا بھی قربت اور شفقت کا نشان ہے، مگر اصل مرکز وہ راز ہے جسے عبداللہ بن جعفر رضی اللہ عنہ نے ظاہر نہ کیا۔ امانت اور راز رکھنے کی حدیث تلاش کرنے والوں کے لیے یہ روایت بہت مختصر مگر واضح ہے۔

اس حدیث سے ہماری تعلیم

  • اعتماد کے ساتھ کہی گئی بات کو امانت سمجھنا چاہیے۔
  • راوی نے راز کی تفصیل بیان نہیں کی، اس لیے ہم بھی اسے نہیں گھڑ سکتے۔
  • نبی صلى الله عليه وسلم کا صحابی کو اپنے پیچھے بٹھانا قربت اور شفقت کا انداز دکھاتا ہے۔

اس سے متعلق احادیث

ترتیبات

زبان

فونٹ کی ترتیبات

عربی فونٹ

عربی فونٹ سائز

24

ترجمہ فونٹ سائز

18

پڑھنے کا لے آؤٹ

ایپ ڈاؤن لوڈ کریں - الحدیث

App Banner

اسلامی علم پھیلانے میں مدد کریں

آپ کی مسلسل حمایت ہمیں اسلام کا پیغام پہنچانے میں مدد کرے گی۔

ہماری مدد کریں