صحیح مسلم حدیث ۶۲۸۵ - میاں بیوی کے جذبات سمجھنے کی نبوی مثال
میاں بیوی کے جذبات: عائشہؓ اور نبی صلى الله عليه وسلم کی پیاری حدیث
صحیح مسلم : ۶۲۸۵
صحیح مسلمحدیث نمبر ۶۲۸۵
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، قَالَ : وَجَدْتُ فِي كِتَابِي ، عَنْ أَبِي أُسَامَةَ ، حَدَّثَنَا هِشَامٌ . ح وحَدَّثَنَا أَبُو كُرَيْبٍ مُحَمَّدُ بْنُ الْعَلَاءِ ، حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ ، عَنْ هِشَامٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ : قَالَ لِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِنِّي لَأَعْلَمُ إِذَا كُنْتِ عَنِّي رَاضِيَةً ، وَإِذَا كُنْتِ عَلَيَّ غَضْبَى ، قَالَتْ : فَقُلْتُ : وَمِنْ أَيْنَ تَعْرِفُ ذَلِكَ ؟ ، قَالَ : أَمَّا إِذَا كُنْتِ عَنِّي رَاضِيَةً ، فَإِنَّكِ تَقُولِينَ لَا وَرَبِّ مُحَمَّدٍ ، وَإِذَا كُنْتِ غَضْبَى ، قُلْتِ : لَا وَرَبِّ إِبْرَاهِيمَ ، قَالَتْ : قُلْتُ : أَجَلْ وَاللَّهِ يَا رَسُولَ اللَّهِ ، مَا أَهْجُرُ إِلَّا اسْمَكَ " .
عائشہ روایت:
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے فرمایا: ”میں جان لیتا ہوں جب تو مجھ سے خوش ہوتی ہے اور جب ناخوش ہوتی ہے۔“ میں نے عرض کیا: کیونکر آپ جان لیتے ہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب تو خوش ہوتی ہے تو کہتی ہے، نہیں قسم محمد کے رب کی اور جب ناراض ہو جاتی ہے تو کہتی ہے نہیں قسم ابراہیم کے رب کی۔“ میں نے عرض کیا: بےشک اللہ کی قسم یا رسول اللہ! میں آپ کا نام چھوڑ دیتی ہوں (جب آپ سے ناراض ہوتی ہوں، یہ غصہ عائشہ رضی اللہ عنہما کا اسی رشک کے باب سے ہے جو عورتوں کو معاف ہے اور وہ ظاہر میں ہوتا ہے دل میں سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا اللہ تعالیٰ کے رسول سے کبھی ناراض نہ ہوتیں)۔
صحیح مسلم حدیث ۶۲۸۵ کا خلاصہ
یہ حدیث میاں بیوی کے تعلق میں سمجھ، نرمی اور دل کے حال کو پہچاننے کی خوبصورت مثال ہے۔ رسول اللہ صلى الله عليه وسلم نے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے فرمایا کہ میں جان لیتا ہوں جب تم مجھ سے خوش ہوتی ہو اور جب ناراض ہوتی ہو۔ عائشہؓ نے پوچھا کہ آپ کیسے جان لیتے ہیں؟ آپ صلى الله عليه وسلم نے بتایا کہ خوشی میں وہ “محمد کے رب کی قسم” کہتی ہیں، اور ناراضی میں “ابراہیم کے رب کی قسم” کہتی ہیں۔ پھر عائشہؓ نے صاف کہا کہ یا رسول اللہ! میں صرف آپ کا نام چھوڑتی ہوں۔ اس حدیث کا مرکزی موضوع ازدواجی محبت، رشک اور نرم گفتگو ہے۔ اس میں ناراضی کو بڑے جھگڑے کے طور پر نہیں، بلکہ ایک فطری گھریلو کیفیت کے طور پر بیان کیا گیا ہے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- گھر کے رشتے میں ایک دوسرے کے انداز کو سمجھنا اہم ہے۔
- ناراضی کے وقت بھی دل کی محبت باقی رہ سکتی ہے۔
- نبی صلى الله عليه وسلم نے بات کو نرمی اور مسکراہٹ والے انداز میں سمجھایا۔
