صحیح مسلم حدیث ۶۲۸۶ - عائشہؓ کی ناراضی کے انداز کا مختصر بیان
عائشہؓ کی ناراضی کا انداز: مختصر روایت کی سمجھ
صحیح مسلم : ۶۲۸۶
صحیح مسلمحدیث نمبر ۶۲۸۶
وحَدَّثَنَاه ابْنُ نُمَيْرٍ ، حَدَّثَنَا عَبْدَةُ ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ ، بِهَذَا الْإِسْنَادِ إِلَى قَوْلِهِ : لَا وَرَبِّ إِبْرَاهِيمَ ، وَلَمْ يَذْكُرْ مَا بَعْدَهُ .
ہشام روایت:
ہشام سے اس سند کے ساتھ «وَرَبِّ إِبْرَاهِيمَ» کے قول تک مروی ہے اور بعد والے جملے کا ذکر نہیں ہے۔
صحیح مسلم حدیث ۶۲۸۶ کا خلاصہ
یہ روایت اسی سند سے آتی ہے اور پچھلی روایت کے مضمون کو مختصر طور پر بیان کرتی ہے۔ یہاں بات “ورب ابراہیم” تک مروی ہے، اور بعد والا جملہ ذکر نہیں کیا گیا۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ ایک ہی واقعہ کبھی مکمل الفاظ کے ساتھ اور کبھی مختصر الفاظ کے ساتھ نقل ہوتا ہے۔ اس حدیث کا اصل موضوع پھر بھی وہی ہے: نبی صلى الله عليه وسلم کا سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے خوش یا ناراض ہونے کے انداز کو پہچاننا۔ چونکہ اس متن میں مزید گفتگو موجود نہیں، اس لیے اس سے زائد باتیں شامل کرنا درست نہیں۔ اسے میاں بیوی کے جذبات، نرم مزاجی، اور گھر کے تعلق میں فطری کیفیت کے طور پر سمجھنا چاہیے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- یہ روایت پچھلی روایت کا مختصر حصہ بیان کرتی ہے۔
- حدیث میں الفاظ کے فرق کو دھیان سے سمجھنا چاہیے۔
- گھریلو ناراضی کو نرم انداز میں پہچاننا بھی تعلق کی سمجھ ہے۔
