صحیح مسلم حدیث ۶۲۸۷ - بچوں کے کھیل اور نبوی نرمی
بچوں کے کھیل پر نرمی: عائشہؓ کی گڑیوں والی حدیث
صحیح مسلم : ۶۲۸۷
صحیح مسلمحدیث نمبر ۶۲۸۷
حَدَّثَنَا يَحْيَي بْنُ يَحْيَي ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ مُحَمَّدٍ ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَائِشَةَ : " أَنَّهَا كَانَتْ تَلْعَبُ بِالْبَنَاتِ عِنْدَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَتْ : وَكَانَتْ تَأْتِينِي صَوَاحِبِي ، فَكُنَّ يَنْقَمِعْنَ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَتْ : فَكَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُسَرِّبُهُنَّ إِلَيّ " .
عائشہ روایت:
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے، وہ گڑیوں سے کھیلتی تھیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس، انہوں نے کہا: میری ہمجولیاں آتیں اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھ کر غائب ہو جاتیں، (شرم سے اور ڈر سے) آپ صلی اللہ علیہ وسلم ان کو میرے پاس بھیج دیتے۔
صحیح مسلم حدیث ۶۲۸۷ کا خلاصہ
اس حدیث میں سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بتاتی ہیں کہ وہ رسول اللہ صلى الله عليه وسلم کے پاس گڑیوں سے کھیلتی تھیں۔ ان کی ہم عمر سہیلیاں بھی آتیں، مگر رسول اللہ صلى الله عليه وسلم کو دیکھ کر شرم یا ڈر کی وجہ سے الگ ہو جاتیں۔ آپ صلى الله عليه وسلم انہیں عائشہؓ کے پاس بھیج دیتے تھے۔ اس روایت کا مرکزی موضوع بچوں کے کھیل، گھر کی نرمی، اور رسول اللہ صلى الله عليه وسلم کا لطیف برتاؤ ہے۔ متن میں کوئی لمبا حکم بیان نہیں کیا گیا، بلکہ ایک گھریلو منظر بتایا گیا ہے جس میں بچوں کی طبیعت کا خیال رکھا گیا۔ اس حدیث کو “گڑیوں والی حدیث”، “بچوں کے ساتھ نرمی” اور “عائشہؓ کی سہیلیاں” جیسے الفاظ سے لوگ تلاش کرتے ہیں۔ اصل سبق یہ ہے کہ گھر میں نرمی اور سہولت کا ماحول ہونا چاہیے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- بچوں اور کم عمر افراد کے ساتھ نرمی مناسب ہے۔
- نبی صلى الله عليه وسلم نے عائشہؓ کی سہیلیوں کو کھیل سے نہیں روکا۔
- حدیث میں گھر کے اندر لحاظ اور آسانی کا ماحول دکھائی دیتا ہے۔
