صحیح مسلم حدیث ۶۲۹۹ - سیدہ عائشہؓ کی فضیلت ثرید کی مثال سے
سیدہ عائشہؓ کی فضیلت: ثرید والی حدیث کی آسان شرح
صحیح مسلم : ۶۲۹۹
صحیح مسلمحدیث نمبر ۶۲۹۹
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْلَمَةَ بْنِ قَعْنَبٍ ، حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ يَعْنِي ابْنَ بِلَالٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، قَالَ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، يَقُولُ : " فَضْلُ عَائِشَةَ عَلَى النِّسَاءِ ، كَفَضْلِ الثَّرِيدِ عَلَى سَائِرِ الطَّعَامِ " .
سیدنا انس بن مالک روایت:
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کی فضیلت اور عورتوں پر ایسی ہے جیسے ثرید (ایک کھانا ہے روٹی اور گوشت سے ملا کر بنایا جاتا ہے) کی فضیلت باقی کھانوں پر۔“
صحیح مسلم حدیث ۶۲۹۹ کا خلاصہ
اس حدیث میں سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلى الله عليه وسلم نے فرمایا: سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کی عورتوں پر فضیلت ایسی ہے جیسے ثرید کی فضیلت باقی کھانوں پر۔ ثرید عرب میں پسندیدہ کھانا تھا، اور حدیث میں اسی کے ذریعے عائشہؓ کے مقام کو سمجھایا گیا۔ اس روایت کا اصل موضوع سیدہ عائشہ کی فضیلت ہے۔ یہاں کسی مقابلے کو بحث بنانے کے بجائے حدیث کے الفاظ پر رہنا چاہیے: نبی صلى الله عليه وسلم نے ایک مثال دے کر عائشہؓ کی خاص فضیلت بیان فرمائی۔ یہ روایت “فضل عائشہ علی النساء” اور “ثرید والی حدیث” کے نام سے تلاش کی جاتی ہے۔ حدیث مختصر ہے، مگر اس کا پیغام واضح ہے کہ عائشہؓ کو ایک خاص مقام حاصل تھا۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- نبی صلى الله عليه وسلم نے عائشہؓ کی فضیلت کو مثال کے ساتھ بیان فرمایا۔
- ثرید کی مثال سے بات آسانی سے سمجھائی گئی۔
- حدیث کا اصل موضوع عائشہؓ کا خاص مقام ہے۔
