صحیح مسلم حدیث ۶۲۹۸ - سفر میں قرعہ اور عائشہؓ کی غیرت
عائشہؓ کی غیرت: سفر، قرعہ اور گھریلو جذبات کی حدیث
صحیح مسلم : ۶۲۹۸
صحیح مسلمحدیث نمبر ۶۲۹۸
حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْحَنْظَلِيُّ ، وحَدَّثَنَا عَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ كِلَاهُمَا ، عَنْ أَبِي نُعَيْمٍ ، قَالَ حَدَّثَنَا أَبُو نُعَيْمٍ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَاحِدِ بْنُ أَيْمَنَ ، حَدَّثَنِي ابْنُ أَبِي مُلَيْكَةَ ، عَنْ الْقَاسِمِ بْنِ مُحَمَّدٍ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ : " كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا خَرَجَ أَقْرَعَ بَيْنَ نِسَائِهِ ، فَطَارَتِ الْقُرْعَةُ عَلَى عَائِشَةَ ، وَحَفْصَةَ ، فَخَرَجَتَا مَعَهُ جَمِيعًا ، وَكَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا كَانَ بِاللَّيْلِ سَارَ مَعَ عَائِشَةَ يَتَحَدَّثُ مَعَهَا ، فَقَالَتْ : حَفْصَةُ لِعَائِشَةَ : أَلَا تَرْكَبِينَ اللَّيْلَةَ بَعِيرِي وَأَرْكَبُ بَعِيرَكِ ، فَتَنْظُرِينَ وَأَنْظُرُ ، قَالَتْ : بَلَى ، فَرَكِبَتْ عَائِشَةُ عَلَى بَعِيرِ حَفْصَةَ ، وَرَكِبَتْ حَفْصَةُ عَلَى بَعِيرِ عَائِشَةَ ، فَجَاءَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى جَمَلِ عَائِشَةَ وَعَلَيْهِ حَفْصَةُ ، فَسَلَّمَ ، ثُمَّ سَارَ مَعَهَا حَتَّى نَزَلُوا ، فَافْتَقَدَتْهُ عَائِشَةُ فَغَارَتْ ، فَلَمَّا نَزَلُوا جَعَلَتْ تَجْعَلُ رِجْلَهَا بَيْنَ الْإِذْخِرِ ، وَتَقُولُ : يَا رَبِّ سَلِّطْ عَلَيَّ عَقْرَبًا ، أَوْ حَيَّةً ، تَلْدَغُنِي رَسُولُكَ وَلَا أَسْتَطِيعُ أَنْ أَقُولَ لَهُ شَيْئًا " .
عائشہ روایت:
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب سفر کو جاتے تو قرعہ ڈالتے اپنی عورتوں پر، ایک بار قرعہ مجھ پر اور ام المؤمنین سیدہ حفصہ رضی اللہ عنہا پر آیا، ہم دونوں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ نکلیں اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم جب رات کو سفر کرتے تو سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہما کے ساتھ چلتے ان سے باتیں کرتے ہوئے، حفصہ نے عائشہ سے کہا: آج کی رات تم میرے اونٹ پر چڑھو اور میں تمہارے اونٹ پر چڑھتی ہوں، تم دیکھو گی جو تم نہیں دیکھتی تھیں اور میں دیکھوں گی جو میں نہیں دیکھتی تھی۔سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہا: اچھا اور وہ سیدہ حفصہ رضی اللہ عنہا کے اونٹ پر سوار ہوئیں اور سیدہ حفصہ رضی اللہ عنہا ان کے اونٹ پر۔ رات کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم آئے دیکھا تو اس پر حفصہ رضی اللہ عنہا ہیں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے سلام کیا اور انہی کے ساتھ بیٹھ کر چلے یہاں تک کہ منزل پر اترے اور سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو نہ پایا (رات بھر) ان کو غیرت آئی، جب اتریں تو وہ اپنے پاؤں اذخر (گھاس) میں ڈالتیں اور کہتیں: یا اللہ! مجھ پر مسلط کر ایک بچھو یا سانپ جو مجھ کو ڈس لے وہ تو تیرے رسول ہیں میں ان کو کچھ کہہ نہیں سکتی۔
صحیح مسلم حدیث ۶۲۹۸ کا خلاصہ
اس روایت میں سفر کا واقعہ بیان ہوا ہے۔ رسول اللہ صلى الله عليه وسلم جب سفر پر جاتے تو ازواجِ مطہرات کے درمیان قرعہ ڈالتے۔ اس سفر میں عائشہؓ اور حفصہؓ کا نام آیا۔ رات کے سفر میں رسول اللہ صلى الله عليه وسلم عائشہؓ کے ساتھ چل کر باتیں کرتے تھے۔ حفصہؓ نے عائشہؓ سے کہا کہ آج رات تم میرے اونٹ پر سوار ہو جاؤ اور میں تمہارے اونٹ پر۔ عائشہؓ مان گئیں۔ پھر رسول اللہ صلى الله عليه وسلم عائشہؓ کے اونٹ کے پاس آئے، مگر اس پر حفصہؓ تھیں؛ آپ صلى الله عليه وسلم نے سلام کیا اور ان کے ساتھ چلتے رہے۔ عائشہؓ نے جب آپ صلى الله عليه وسلم کو نہ پایا تو انہیں غیرت آئی۔ یہ حدیث قرعہ، سفر، غیرت اور گھریلو جذبات کے موضوع پر ہے، مگر اس میں کوئی زائد حکم بیان نہیں ہوا۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- سفر میں ازواجِ مطہرات کے درمیان قرعہ ڈالا جاتا تھا۔
- عائشہؓ کو واقعے کے بعد غیرت محسوس ہوئی۔
- روایت انسانی جذبات کو واقعے کی حد تک بیان کرتی ہے۔
