صحیح مسلم حدیث ۶۲۹۷ - نبی صلى الله عليه وسلم کا آخری کلمہ: اللهم الرفيق الأعلى

اللهم الرفيق الأعلى: نبی صلى الله عليه وسلم کے آخری کلمات

صحیح مسلمحدیث نمبر ۶۲۹۷

حَدَّثَنِي عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ شُعَيْبِ بْنِ اللَّيْثِ بْنِ سَعْدٍ ، حَدَّثَنِي أَبِي ، عَنْ جَدِّي ، حَدَّثَنِي عُقَيْلُ بْنُ خَالِدٍ ، قَالَ : قَالَ ابْنُ شِهَابٍ : أَخْبَرَنِي سَعِيدُ بْنُ الْمُسَيِّبِ ، وَعُرْوَةُ بْنُ الزُّبَيْرِ ، في رجال من أهل العلم ، أن عائشة زوج النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَتْ : كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، يَقُولُ وَهُوَ صَحِيحٌ : إِنَّهُ لَمْ يُقْبَضْ نَبِيٌّ قَطُّ حَتَّى يُرَى مَقْعَدُهُ فِي الْجَنَّةِ ثُمَّ يُخَيَّرُ ، قَالَتْ عَائِشَةُ : فَلَمَّا نَزَلَ بِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَرَأْسُهُ عَلَى فَخِذِي غُشِيَ عَلَيْهِ سَاعَةً ، ثُمَّ أَفَاقَ ، فَأَشْخَصَ بَصَرَهُ إِلَى السَّقْفِ ، ثُمَّ قَالَ : اللَّهُمَّ الرَّفِيقَ الْأَعْلَى ، قَالَتْ عَائِشَةُ : قُلْتُ : إِذًا لَا يَخْتَارُنَا ، قَالَتْ عَائِشَةُ : وَعَرَفْتُ الْحَدِيثَ الَّذِي كَانَ يُحَدِّثُنَا بِهِ وَهُوَ صَحِيحٌ فِي قَوْلِهِ : " إِنَّهُ لَمْ يُقْبَضْ نَبِيٌّ قَطُّ حَتَّى يَرَى مَقْعَدَهُ مِنَ الْجَنَّةِ ثُمَّ يُخَيَّرُ ، قَالَتْ عَائِشَةُ : فَكَانَتْ تِلْكَ آخِرُ كَلِمَةٍ تَكَلَّمَ بِهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَوْلَهُ : اللَّهُمَّ الرَّفِيقَ الْأَعْلَى " .

عائشہ روایت:

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے تھے تندرستی کی حالت میں: ”کوئی نبی نہیں فوت ہوا یہاں تک کہ اس نے اپنا ٹھکانا جنت میں دیکھ نہیں لیا اور اختیار نہیں ملا دنیا سے جانے کے لیے۔“سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہا: جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کا وقت آ گیا تو آپ کا سر میری ران پر تھا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم ایک ساعت تک بیہوش رہے، پھر ہوش میں آئے اور اپنی آنکھ چھت کی طرف لگائی اور فرمایا: «اللَّهُمَّ الرَّفِيقَ الأَعْلَى» ”یا اللہ! بلند رفیقوں کے ساتھ کر۔“ (یعنی پیغمبروں کے ساتھ۔ جو اعلی علیین میں رہتے ہیںسیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہا: اس وقت میں نے کہا: اب آپ صلی اللہ علیہ وسلم ہم کو اختیار کرنے والے نہیں اور مجھے یاد آئی وہ حدیث جو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمائی تھی تندرستی کی حالت میں کہ ”کوئی نبی نہیں فوت ہوا یہاں تک کہ اس نے اپنا ٹھکانا جنت میں دیکھ نہ لیا ہو اور اس کو اختیار نہ ملا ہو۔“ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہما نے کہا: یہ آخری کلمہ تھا جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا «اللَّهُمَّ الرَّفِيقَ الأَعْلَى»۔

صحیح مسلم حدیث ۶۲۹۷ کا خلاصہ

یہ حدیث نبی صلى الله عليه وسلم کے آخری کلمات کے بارے میں ہے۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بتاتی ہیں کہ رسول اللہ صلى الله عليه وسلم تندرستی میں فرمایا کرتے تھے کہ کوئی نبی وفات نہیں پاتا، یہاں تک کہ اسے جنت میں اپنا ٹھکانا دکھایا جاتا اور پھر اختیار دیا جاتا ہے۔ جب آپ صلى الله عليه وسلم کی وفات کا وقت آیا، سر مبارک عائشہؓ کی ران پر تھا، آپ صلى الله عليه وسلم کچھ دیر بے ہوش رہے، پھر ہوش آیا، چھت کی طرف نظر اٹھائی اور فرمایا: “اللهم الرفيق الأعلى”۔ عائشہؓ نے سمجھ لیا کہ اب آپ صلى الله عليه وسلم دنیا کو اختیار نہیں فرمائیں گے۔ روایت کے آخر میں وہ کہتی ہیں کہ یہی آپ صلى الله عليه وسلم کا آخری کلمہ تھا۔ اس کا مرکزی موضوع رفیق اعلیٰ، آخرت، اور وفاتِ نبوی صلى الله عليه وسلم ہے۔

اس حدیث سے ہماری تعلیم

  • نبی صلى الله عليه وسلم کے آخری کلمات “اللهم الرفيق الأعلى” تھے۔
  • روایت میں نبی کو جنت کا مقام دکھائے جانے اور اختیار کا ذکر ہے۔
  • عائشہؓ نے آخری الفاظ سے بات کو سمجھ لیا۔

ترتیبات

زبان

فونٹ کی ترتیبات

عربی فونٹ

عربی فونٹ سائز

24

ترجمہ فونٹ سائز

18

پڑھنے کا لے آؤٹ

ایپ ڈاؤن لوڈ کریں - الحدیث

App Banner

اسلامی علم پھیلانے میں مدد کریں

آپ کی مسلسل حمایت ہمیں اسلام کا پیغام پہنچانے میں مدد کرے گی۔

ہماری مدد کریں