صحیح مسلم حدیث ۶۲۹۶ - دنیا و آخرت کے اختیار والی روایت کی تائید

آخرت کے اختیار کی حدیث: دوسری سند سے تائید

صحیح مسلمحدیث نمبر ۶۲۹۶

وحَدَّثَنَاه أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ . ح وحَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُعَاذٍ ، حَدَّثَنَا أَبِي ، قَالَا : حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ سَعْدٍ ، بِهَذَا الْإِسْنَادِ مِثْلَهُ .

سعد روایت:

سعد سے انہی اسناد کے ساتھ اسی طرح مروی ہے۔

صحیح مسلم حدیث ۶۲۹۶ کا خلاصہ

یہ روایت سعد کے واسطے سے انہی اسناد کے ساتھ اسی مضمون کو بیان کرتی ہے جو پچھلی حدیث میں آیا۔ چونکہ متن میں تفصیل صرف “اسی طرح مروی ہے” کی صورت میں ہے، اس لیے اس سے الگ واقعہ یا نئی بات ثابت نہیں کی جاتی۔ اصل موضوع یہی ہے کہ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے نبی صلى الله عليه وسلم کی آخری بیماری میں ایسے الفاظ سنے جن سے انہوں نے سمجھا کہ آپ صلى الله عليه وسلم کو دنیا اور آخرت کے درمیان اختیار دیا گیا۔ اس روایت کو سمجھتے وقت ہمیں متن کی حد کا خیال رکھنا چاہیے۔ یہ حدیث آخرت، رفیقِ اعلیٰ، اور نبی صلى الله عليه وسلم کے آخری وقت کے حوالے سے پچھلی روایت کی تائید کرتی ہے، نہ کہ کوئی نئی تفصیل بیان کرتی ہے۔

اس حدیث سے ہماری تعلیم

  • یہ روایت پچھلے مضمون کی تائید کرتی ہے۔
  • متن میں نئی تفصیل نہیں، اس لیے بات بھی اسی حد تک رہتی ہے۔
  • آخرت اور رفیقِ اعلیٰ کا موضوع اس روایت کا مرکز ہے۔

ترتیبات

زبان

فونٹ کی ترتیبات

عربی فونٹ

عربی فونٹ سائز

24

ترجمہ فونٹ سائز

18

پڑھنے کا لے آؤٹ

ایپ ڈاؤن لوڈ کریں - الحدیث

App Banner

اسلامی علم پھیلانے میں مدد کریں

آپ کی مسلسل حمایت ہمیں اسلام کا پیغام پہنچانے میں مدد کرے گی۔

ہماری مدد کریں