حدیث ۶۲۹۵
صحیح مسلم : ۶۲۹۵
صحیح مسلمحدیث نمبر ۶۲۹۵
وحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، وَابْنُ بَشَّارٍ ، وَاللَّفْظُ لِابْنِ الْمُثَنَّى ، قَالَا : حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ سَعْدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ ، عَنْ عُرْوَةَ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ : " كُنْتُ أَسْمَعُ أَنَّهُ لَنْ يَمُوتَ نَبِيٌّ حَتَّى يُخَيَّرَ بَيْنَ الدُّنْيَا وَالْآخِرَةِ ، قَالَتْ : فَسَمِعْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي مَرَضِهِ الَّذِي مَاتَ فِيهِ ، وَأَخَذَتْهُ بُحَّةٌ يَقُولُ : مَعَ الَّذِينَ أَنْعَمَ اللَّهُ عَلَيْهِمْ مِنَ النَّبِيِّينَ وَالصِّدِّيقِينَ وَالشُّهَدَاءِ وَالصَّالِحِينَ وَحَسُنَ أُولَئِكَ رَفِيقًا سورة النساء آية 69 ، قَالَتْ : فَظَنَنْتُهُ خُيِّرَ حِينَئِذٍ " .
ام المؤمنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے، میں سنا کرتی تھی کہ کوئی نبی نہیں مرے گا یہاں تک کہ اس کو اختیار دیا جائے گا دنیا میں رہنے اور آخرت میں جانے کا، پھر میں نے سنا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی بیماری میں جس میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے وفات پائی اس وقت آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی آواز بھاری تھی، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ان لوگوں کے ساتھ کر جن پر تو نے احسان کیا نبی اور صدیق اور شہید اور نیک بخت لوگوں میں سے اور اچھے رفیق ہیں یہ لوگ۔“ اس وقت میں سمجھی ان کو اختیار ملا۔
