صحیح مسلم حدیث ۶۳۰ - تنگ جبہ میں وضو اور مسح
تنگ جبہ میں وضو: سر اور موزوں پر مسح کی حدیث
صحیح مسلم : ۶۳۰
صحیح مسلمحدیث نمبر ۶۳۰
وحَدَّثَنَا إِسْحَاق بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، وَعَلِيُّ بْنُ خَشْرَمٍ جميعا ، عَنْ عِيسَى بْنِ يُونُسَ ، قَالَ إِسْحَاق ، أَخْبَرَنَا عِيسَى ، حَدَّثَنَا الأَعْمَشُ ، عَنْ مُسْلِمٍ ، عَنْ مَسْرُوقٍ ، عَنِ الْمُغِيرَةِ بْنِ شُعْبَةَ ، قَالَ : " خَرَجَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِيَقْضِيَ حَاجَتَهُ ، فَلَمَّا رَجَعَ تَلَقَّيْتُهُ بِالإِدَاوَةِ ، فَصَبَبْتُ عَلَيْهِ ، فَغَسَلَ يَدَيْهِ ، ثُمَّ غَسَلَ وَجْهَهُ ، ثُمَّ ذَهَبَ لِيَغْسِلَ ذِرَاعَيْهِ ، فَضَاقَتِ الْجُبَّةُ ، فَأَخْرَجَهُمَا مِنْ تَحْتِ الْجُبَّةِ ، فَغَسَلَهُمَا ، وَمَسَحَ رَأْسَهُ ، وَمَسَحَ عَلَى خُفَّيْهِ ، ثُمَّ صَلَّى بِنَا " .
مغیرہ بن شعبہ روایت:
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم حاجت کے واسطے نکلے جب لوٹے تو میں پانی کا ڈول لے کر آیا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر پانی ڈالا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دونوں ہاتھ دھوئے، پھر منہ دھویا، پھر ہاتھ دھونا چاہے جبہ تنگ تھا، آخر ہاتھوں کو جبہ کے نیچے سے نکالا اور دھویا ان کو اور سر پر مسح کیا اور موزوں پر مسح کیا، پھر ہمارے ساتھ نماز پڑھی۔
صحیح مسلم حدیث ۶۳۰ کا خلاصہ
یہ حدیث وضو کے عملی انداز کو واضح کرتی ہے۔ سیدنا مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم حاجت کے لیے گئے۔ جب واپس آئے تو مغیرہ رضی اللہ عنہ پانی کا ڈول لے کر حاضر ہوئے اور پانی ڈالا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دونوں ہاتھ دھوئے، پھر چہرہ دھویا۔ جب بازو دھونے کا ارادہ کیا تو جبہ تنگ تھا، اس لیے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہاتھ جبہ کے نیچے سے نکالے اور انہیں دھویا۔ پھر سر پر مسح کیا اور دونوں موزوں پر مسح کیا، پھر لوگوں کے ساتھ نماز پڑھی۔ اس روایت میں وضو کا طریقہ حالات کے ساتھ بیان ہوا ہے۔ خاص طور پر تنگ لباس کی وجہ سے ہاتھ نیچے سے نکالنے کا ذکر ہے۔ حدیث کا مرکزی پہلو یہ ہے کہ وضو میں اعضا دھوئے گئے، سر کا مسح ہوا، موزوں پر مسح ہوا، اور پھر نماز ادا کی گئی۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- وضو میں ہاتھ، چہرہ اور بازو دھونے کا ذکر آیا ہے۔
- تنگ جبہ ہونے پر بازو نیچے سے نکال کر دھوئے گئے۔
- سر اور موزوں پر مسح کے بعد نماز پڑھی گئی۔
