صحیح مسلم حدیث ۶۲۹ - سفر میں وضو، جبہ اور موزوں پر مسح

سفر میں وضو کا نبوی عمل: تنگ جبہ، موزوں پر مسح اور نماز

صحیح مسلمحدیث نمبر ۶۲۹

وحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَأَبُو كُرَيْبٍ ، قَالَ أَبُو بَكْرٍ ، حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ ، عَنِ الأَعْمَشِ ، عَنْ مُسْلِمٍ ، عَنْ مَسْرُوقٍ ، عَنِ الْمُغِيرَةِ بْنِ شُعْبَةَ ، قَالَ : " كُنْتُ مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي سَفَرٍ ، فَقَالَ : يَا مُغِيرَةُ ، خُذْ الإِدَاوَةَ ، فَأَخَذْتُهَا ، ثُمَّ خَرَجْتُ مَعَهُ ، فَانْطَلَقَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَتَّى تَوَارَى عَنِّي ، فَقَضَى حَاجَتَهُ ، ثُمَّ جَاءَ وَعَلَيْهِ جُبَّةٌ شَامِيَّةٌ ضَيِّقَةُ الْكُمَّيْنِ ، فَذَهَبَ يُخْرِجُ يَدَهُ مِنْ كُمِّهَا ، فَضَاقَتْ عَلَيْهِ ، فَأَخْرَجَ يَدَهُ مِنْ أَسْفَلِهَا ، فَصَبَبْتُ عَلَيْهِ ، فَتَوَضَّأَ وُضُوءَهُ لِلصَّلَاةِ ، ثُمَّ مَسَحَ عَلَى خُفَّيْهِ ، ثُمَّ صَلَّى " .

مغیرہ بن شعبہ روایت:

میں سفر میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تھا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اے مغیرہ! چھاگل لے لے پانی کی“، میں نے لے لی۔ اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ نکلا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم چلے یہاں تک کہ میری نظر سے غائب ہو گئے اور حاجت سے فارغ ہوئے پھر لوٹ کر آئے آپ صلی اللہ علیہ وسلم ایک جبہ پہنے ہوئے تھے شام کا، تنگ آستینوں کا۔آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے چاہا اپنے ہاتھ آستینوں سے باہر نکالنا وہ نکل نہ سکے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے نیچے سے ہاتھوں کو نکال لیا، پھر میں نے وضو کا پانی ڈالا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے وضو کیا جیسے نماز کے لئے وضو کرتے ہیں، پھر مسح کیا موزوں پر، پھر نماز پڑھی۔

صحیح مسلم حدیث ۶۲۹ کا خلاصہ

یہ حدیث سفر میں وضو اور موزوں پر مسح کی تفصیل بیان کرتی ہے۔ سیدنا مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ سفر میں تھے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ پانی کی چھاگل لے لو۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم حاجت کے لیے گئے، یہاں تک کہ نظر سے غائب ہو گئے۔ واپس آئے تو شام کا تنگ آستینوں والا جبہ پہنے ہوئے تھے۔ جب ہاتھ آستینوں سے نہ نکل سکے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہاتھ نیچے سے نکالے۔ مغیرہ رضی اللہ عنہ نے وضو کا پانی ڈالا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز کے وضو جیسا وضو کیا، پھر موزوں پر مسح کیا اور نماز پڑھی۔ اس روایت میں بہت عملی انداز ہے: سفر، پانی، لباس کی تنگی، وضو، مسح اور نماز۔ اصل سبق یہی ہے کہ حالات جیسے بھی ہوں، طہارت اور نماز کا اہتمام کیا جائے، اور موزوں پر مسح نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے عمل میں موجود ہے۔

اس حدیث سے ہماری تعلیم

  • سفر میں بھی وضو اور نماز کا اہتمام کیا گیا۔
  • لباس تنگ ہونے پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہاتھ نیچے سے نکال کر دھوئے۔
  • وضو کے بعد موزوں پر مسح کیا گیا اور پھر نماز ادا کی گئی۔

ترتیبات

زبان

فونٹ کی ترتیبات

عربی فونٹ

عربی فونٹ سائز

24

ترجمہ فونٹ سائز

18

پڑھنے کا لے آؤٹ

ایپ ڈاؤن لوڈ کریں - الحدیث

App Banner

اسلامی علم پھیلانے میں مدد کریں

آپ کی مسلسل حمایت ہمیں اسلام کا پیغام پہنچانے میں مدد کرے گی۔

ہماری مدد کریں