صحیح مسلم حدیث ۶۳۲۱ - ام سلیم اور بلال رضی اللہ عنہما کی جنت میں فضیلت

جنت میں بلال رضی اللہ عنہ کی آہٹ اور ام سلیم رضی اللہ عنہا کی فضیلت

صحیح مسلمحدیث نمبر ۶۳۲۱

حَدَّثَنِي أَبُو جَعْفَرٍ مُحَمَّدُ بْنُ الْفَرَجِ ، حَدَّثَنَا زَيْدُ بْنُ الْحُبَابِ ، أَخْبَرَنِي عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ أَبِي سَلَمَةَ ، أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُنْكَدِرِ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " أُرِيتُ الْجَنَّةَ ، فَرَأَيْتُ امْرَأَةَ أَبِي طَلْحَةَ ، ثُمَّ سَمِعْتُ خَشْخَشَةً أَمَامِي ، فَإِذَا بِلَالٌ " .

جابر بن عبداللہ روایت:

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”مجھےجنت دکھلائی گئی تو میں نے وہاں ابوطلحہ کی بی بی ام سلیم کو دیکھا پھر میں نے اپنے آگے چلنے کی آواز سنی، دیکھا تو بلال ہیں۔“

صحیح مسلم حدیث ۶۳۲۱ کا خلاصہ

اس حدیث کا مرکزی مضمون فضائل صحابہ ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بتایا کہ آپ کو جنت دکھائی گئی، وہاں آپ نے ابوطلحہ رضی اللہ عنہ کی بیوی ام سلیم رضی اللہ عنہا کو دیکھا، پھر اپنے آگے چلنے کی آواز سنی تو وہ بلال رضی اللہ عنہ تھے۔ عام طور پر لوگ اس روایت کو ام سلیم رضی اللہ عنہا کی فضیلت، بلال رضی اللہ عنہ کی فضیلت، اور جنت میں بلال کی آہٹ کے عنوان سے تلاش کرتے ہیں۔ حدیث میں کسی لمبی تفصیل کے بجائے صرف اتنا بتایا گیا ہے کہ ان دونوں عظیم صحابہ کا ذکر جنت کے منظر کے ساتھ آیا۔ اس سے مومن کے دل میں نیک لوگوں کی عزت، محبت اور اچھی امید پیدا ہوتی ہے۔

اس حدیث سے ہماری تعلیم

  • نیک بندوں کا مقام اللہ کے ہاں بہت بلند ہو سکتا ہے۔
  • صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کی فضیلت کا ذکر ادب اور محبت کے ساتھ کرنا چاہیے۔
  • حدیث میں ام سلیم اور بلال رضی اللہ عنہما کے لیے خاص عزت کا بیان آیا ہے۔
  • جنت کا ذکر مومن کے دل میں نیک عمل کی رغبت پیدا کرتا ہے۔

ترتیبات

زبان

فونٹ کی ترتیبات

عربی فونٹ

عربی فونٹ سائز

24

ترجمہ فونٹ سائز

18

پڑھنے کا لے آؤٹ

ایپ ڈاؤن لوڈ کریں - الحدیث

App Banner

اسلامی علم پھیلانے میں مدد کریں

آپ کی مسلسل حمایت ہمیں اسلام کا پیغام پہنچانے میں مدد کرے گی۔

ہماری مدد کریں