صحیح مسلم حدیث ۶۳۲۴ - وضو کے بعد نماز اور بلال رضی اللہ عنہ کی امید

وضو کے بعد نفل نماز: بلال رضی اللہ عنہ کا امید والا عمل

صحیح مسلمحدیث نمبر ۶۳۲۴

حَدَّثَنَا عُبَيْدُ بْنُ يَعِيشَ ، وَمُحَمَّدُ بْنُ الْعَلَاءِ الْهَمْدَانِيُّ ، قَالَا : حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ ، عَنْ أَبِي حَيَّانَ . ح وحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نُمَيْرٍ وَاللَّفْظُ لَهُ ، حَدَّثَنَا أَبِي ، حَدَّثَنَا أَبُو حَيَّانَ التَّيْمِيُّ يَحْيَي بْنُ سَعِيدٍ ، عَنْ أَبِي زُرْعَةَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِبِلَالٍ عِنْدَ صَلَاةِ الْغَدَاةِ يَا بِلَالُ : " حَدِّثْنِي بِأَرْجَى عَمَلٍ عَمِلْتَهُ عِنْدَكَ فِي الْإِسْلَامِ مَنْفَعَةً ، فَإِنِّي سَمِعْتُ اللَّيْلَةَ خَشْفَ نَعْلَيْكَ بَيْنَ يَدَيَّ فِي الْجَنَّةِ ، قَالَ بِلَالٌ : مَا عَمِلْتُ عَمَلًا فِي الْإِسْلَامِ أَرْجَى عِنْدِي مَنْفَعَةً مِنْ أَنِّي لَا أَتَطَهَّرُ طُهُورًا تَامًّا فِي سَاعَةٍ مِنْ لَيْلٍ وَلَا نَهَارٍ ، إِلَّا صَلَّيْتُ بِذَلِكَ الطُّهُورِ مَا كَتَبَ اللَّهُ لِي أَنْ أُصَلِّيَ " .

ابوہریرہ روایت:

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا بلال رضی اللہ عنہ سے صبح کی نماز پڑھ کر ”اے بلال! بیان کر مجھ سے وہ عمل جو تو نے کیا ہے اسلام میں جس کے فائدے کی تجھے زیادہ امید ہےکیونکہ میں نے آج کی رات تیرے جوتوں کی آواز سنی اپنے سامنے جنت میں۔“ سیدنا بلال رضی اللہ عنہ نے کہا: میں نے کوئی عمل اسلام میں جس کے نفع کی امید بہت ہو اس سے زیادہ نہیں کیا کہ میں جب پورا وضو کرتا ہوں کسی وقت میں رات یا دن کو تو اس وضو سے نماز پڑھتا ہوں جتنی اللہ عزوجل نے میری قسمت میں لکھی ہے۔

صحیح مسلم حدیث ۶۳۲۴ کا خلاصہ

اس حدیث کا موضوع وضو اور نفل نماز ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے صبح کی نماز کے بعد بلال رضی اللہ عنہ سے پوچھا کہ اسلام میں وہ کون سا عمل ہے جس کے فائدے کی تمہیں زیادہ امید ہے، کیونکہ آپ نے جنت میں ان کے جوتوں کی آواز سنی۔ بلال رضی اللہ عنہ نے کوئی بڑا دعویٰ نہیں کیا، بلکہ اپنا معمول بتایا کہ جب بھی رات یا دن میں مکمل وضو کرتے، تو اس وضو سے جتنی نماز اللہ نے لکھ دی ہوتی، پڑھ لیتے۔ یہ روایت وضو کے بعد نماز، بلال رضی اللہ عنہ کا عمل، اور جنت میں بلال کے قدموں کی آواز کے نام سے مشہور ہے۔ حدیث میں عمل کی سادگی بھی ہے اور پابندی کا رنگ بھی، مگر بات اسی حد تک رکھنی چاہیے جو متن میں آئی ہے۔

اس حدیث سے ہماری تعلیم

  • مکمل وضو کے بعد نفل نماز پڑھنا بلال رضی اللہ عنہ کا امید والا عمل تھا۔
  • نیکی میں مستقل مزاجی انسان کے لیے امید کا سبب بن سکتی ہے۔
  • بندہ اپنے عمل کو اللہ کے فضل کے ساتھ امید کا ذریعہ سمجھتا ہے۔
  • رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بلال رضی اللہ عنہ سے ان کے عمل کے بارے میں پوچھا۔

ترتیبات

زبان

فونٹ کی ترتیبات

عربی فونٹ

عربی فونٹ سائز

24

ترجمہ فونٹ سائز

18

پڑھنے کا لے آؤٹ

ایپ ڈاؤن لوڈ کریں - الحدیث

App Banner

اسلامی علم پھیلانے میں مدد کریں

آپ کی مسلسل حمایت ہمیں اسلام کا پیغام پہنچانے میں مدد کرے گی۔

ہماری مدد کریں