صحیح مسلم حدیث ۶۳۲۳ - ابوطلحہ اور ام سلیم رضی اللہ عنہما کا واقعہ
ام سلیم رضی اللہ عنہا کے صبر والی حدیث کا دوسرا بیان
صحیح مسلم : ۶۳۲۳
صحیح مسلمحدیث نمبر ۶۳۲۳
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ خِرَاشٍ ، حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ عَاصِمٍ ، حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ الْمُغِيرَةِ ، حَدَّثَنَا ثَابِتٌ ، حَدَّثَنِي أَنَسُ بْنُ مَالِكٍ ، قَالَ : مَاتَ ابْنٌ لِأَبِي طَلْحَةَ ، وَاقْتَصَّ الْحَدِيثَ بِمِثْلِهِ .
ترجمہ وہی ہے جو اوپرگزرا۔
صحیح مسلم حدیث ۶۳۲۳ کا خلاصہ
اس روایت میں پچھلے واقعے ہی کا مضمون دوسری سند سے بیان ہوا ہے۔ اصل بات یہ ہے کہ ابوطلحہ رضی اللہ عنہ کے بیٹے کا انتقال ہوا، ام سلیم رضی اللہ عنہا نے گھر والوں کو کہا کہ ابوطلحہ کو خبر نہ دیں، جب تک وہ خود نہ بتائیں۔ پھر انہوں نے ابوطلحہ رضی اللہ عنہ کو ایک مثال کے ذریعے بات سمجھائی کہ جو چیز عاریت کے طور پر دی جائے، اسے واپس مانگا جائے تو روکنا درست نہیں۔ اس کے بعد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو خبر دی گئی اور آپ نے برکت کی دعا فرمائی۔ اسی واقعے میں بعد میں بچے کی پیدائش، عجوہ کھجور سے تحنیک اور نام عبداللہ رکھنے کا ذکر ہے۔ اس لیے اسے ام سلیم کا صبر، ابوطلحہ کا واقعہ، اور برکت والی دعا کی حدیث کے طور پر سمجھا جا سکتا ہے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- ایک ہی واقعہ مختلف سندوں سے بھی روایت ہو سکتا ہے۔
- مصیبت کی خبر حکمت اور نرمی کے ساتھ دینا ایک اچھا انداز ہے۔
- اولاد کے معاملے میں صبر اور اللہ سے ثواب کی امید کا پہلو واضح ہے۔
- نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس واقعے کے بعد دعا فرمائی۔
