صحیح مسلم حدیث ۶۳۲۵ - ایمان، نیک عمل اور ابن مسعود رضی اللہ عنہ
ایمان اور تقویٰ کی آیت میں عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کی بشارت
صحیح مسلم : ۶۳۲۵
صحیح مسلمحدیث نمبر ۶۳۲۵
حَدَّثَنَا مِنْجَابُ بْنُ الْحَارِثِ التَّمِيمِيُّ ، وَسَهْلُ بْنُ عُثْمَانَ ، وَعَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَامِرِ بْنِ زُرَارَةَ الْحَضْرَمِيُّ ، وَسُوَيْدُ بْنُ سَعِيدٍ ، وَالْوَلِيدُ بْنُ شُجَاعٍ ، قَالَ سَهْلٌ وَمِنْجَابٌ : أَخْبَرَنَا ، وقَالَ الْآخَرُونَ : حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُسْهِرٍ ، عَنْ الْأَعْمَشِ ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ ، عَنْ عَلْقَمَةَ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ : " لَمَّا نَزَلَتْ هَذِهِ الْآيَةُ : لَيْسَ عَلَى الَّذِينَ آمَنُوا وَعَمِلُوا الصَّالِحَاتِ جُنَاحٌ فِيمَا طَعِمُوا إِذَا مَا اتَّقَوْا وَآمَنُوا سورة المائدة آية 93 ، إِلَى آخِرِ الْآيَةِ ، قَالَ لِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : قِيلَ لِي : أَنْتَ مِنْهُمْ " .
عبداللہ بن مسعود روایت:
جب یہ آیت اتری «لَيْسَ عَلَى الَّذِينَ آمَنُوا وَعَمِلُوا الصَّالِحَاتِ جُنَاحٌ فِيمَا طَعِمُوا إِذَا مَا اتَّقَوا وَّآمَنُوا وَعَمِلُوا الصَّالِحَاتِ ثُمَّ اتَّقَوا وَّآمَنُوا ثُمَّ اتَّقَوا وَّأَحْسَنُوا وَاللَّـهُ يُحِبُّ الْمُحْسِنِينَ» (۵-المائده:٩٣) ”جو لوگ ایمان لائے اور نیک کام بجا لائے ان پر گناہ نہیں ہے اس کا جو کھا چکے“ آخر تک۔رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تو ان لوگوں میں سے ہے۔“ (یعنی ایمان والوں اور نیک اعمال والوں میں سے)۔
صحیح مسلم حدیث ۶۳۲۵ کا خلاصہ
یہ حدیث ایمان و تقویٰ کے مضمون سے متعلق ہے۔ عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ جب سورہ مائدہ کی آیت نازل ہوئی جس میں ایمان لانے، نیک عمل کرنے، تقویٰ اختیار کرنے اور احسان کرنے والوں کا ذکر ہے، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا کہ مجھے بتایا گیا ہے کہ تم انہی لوگوں میں سے ہو۔ حدیث کا پیغام بہت سادہ ہے: آیت میں جن صفات کا ذکر ہے، یعنی ایمان، عمل صالح، تقویٰ اور اچھا طرز عمل، عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کے بارے میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف سے خاص بات کہی گئی۔ اسے ابن مسعود کی فضیلت، ایمان اور تقویٰ کی حدیث، اور عمل صالح کی حدیث کے طور پر تلاش کیا جاتا ہے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- ایمان کے ساتھ نیک عمل اور تقویٰ کا ذکر قرآن میں ساتھ آیا ہے۔
- رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کے لیے خاص بشارت بیان فرمائی۔
- صحابی کی فضیلت اسی حد تک بیان کرنی چاہیے جتنی روایت میں آئی ہے۔
- آیت کا مضمون ایمان، تقویٰ اور احسان کی طرف متوجہ کرتا ہے۔
