صحیح مسلم حدیث ۶۳۶۳ - مسکراہٹ اور اچھا برتاؤ
مسکراہٹ کی حدیث: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا حسن سلوک
صحیح مسلم : ۶۳۶۳
صحیح مسلمحدیث نمبر ۶۳۶۳
حَدَّثَنَا يَحْيَي بْنُ يَحْيَي ، أَخْبَرَنَا خَالِدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ، عَنْ بَيَانٍ ، عَنْ قَيْسِ بْنِ أَبِي حَازِمٍ ، عَنْ جَرِيرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ . ح وحَدَّثَنِي عَبْدُ الْحَمِيدِ بْنُ بَيَانٍ ، حَدَّثَنَا خَالِدٌ ، عَنْ بَيانٍ ، قَالَ : سَمِعْتُ قَيْسَ بْنَ أَبِي حَازِمٍ ، يَقُولُ : قَالَ جَرِيرُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ : " أَحْجَبَنِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مُنْذُ أَسْلَمْتُ ، وَلَا رَآنِي إِلَّا ضَحِكَ " .
جریر بن عبداللہ روایت:
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے کبھی نہیں روکا اندر آنے سے جب سے میں مسلمان ہوا اور کبھی مجھے نہیں دیکھا مگر آپ صلی اللہ علیہ وسلم ہنسے (یعنی خندہ روئی اور کشادہ پیشانی سے ملے)۔
صحیح مسلم حدیث ۶۳۶۳ کا خلاصہ
اس حدیث میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے حسن سلوک کا ایک بہت نرم پہلو سامنے آتا ہے۔ سیدنا جریر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ اسلام قبول کرنے کے بعد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں کبھی اندر آنے سے نہ روکا، اور جب بھی دیکھا تو مسکرا کر ملے۔ اس مختصر روایت میں لمبی بحث نہیں، مگر پیغام بہت صاف ہے: مومن کے ساتھ اچھے انداز سے ملنا، چہرے پر مسکراہٹ رکھنا، اور اسے عزت دینا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے عمل سے ثابت ہے۔ اسی لیے لوگ اسے مسکراہٹ کی حدیث، حسن اخلاق حدیث، اور جریر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ کی فضیلت کے نام سے تلاش کرتے ہیں۔ متن میں صرف جریر رضی اللہ عنہ کے ساتھ یہ خاص معاملہ بیان ہوا ہے، اس لیے وضاحت بھی اسی حد تک رکھی گئی ہے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- لوگوں سے مسکرا کر ملنا اچھے اخلاق کا حصہ ہے۔
- کسی مسلمان بھائی کو عزت سے ملنا دل کو قریب کرتا ہے۔
- سیدنا جریر رضی اللہ عنہ کے لیے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا خاص لطف بیان ہوا ہے۔
- مختصر عمل بھی اچھے اخلاق کا بڑا سبق دے سکتا ہے۔
