صحیح مسلم حدیث ۶۳۹ - مسافر اور مقیم کے لیے مسح کی مدت
موزوں پر مسح کی مدت: مسافر کے لیے تین دن، مقیم کے لیے ایک دن
صحیح مسلم : ۶۳۹
صحیح مسلمحدیث نمبر ۶۳۹
وحَدَّثَنَا إِسْحَاق بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْحَنْظَلِيُّ ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، أَخْبَرَنَا الثَّوْرِيُّ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ قَيْسٍ الْمُلَائِيِّ ، عَنِ الْحَكَمِ بْنِ عُتَيْبَةَ ، عَنِ الْقَاسِمِ بْنِ مُخَيْمِرَةَ ، عَنْ شُرَيْحِ بْنِ هَانِئٍ ، قَالَ : أَتَيْتُ عَائِشَةَ ، أَسْأَلُهَا عَنِ الْمَسْحِ عَلَى الْخُفَّيْنِ ؟ فَقَالَتْ : عَلَيْكَ بِابْنِ أَبِي طَالِبٍ ، فَسَلْهُ ، فَإِنَّهُ كَانَ يُسَافِرُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَسَأَلْنَاهُ ، فَقَالَ : جَعَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " ثَلَاثَةَ أَيَّامٍ وَلَيَالِيَهُنَّ لِلْمُسَافِرِ ، وَيَوْمًا وَلَيْلَةً لِلْمُقِيمِ " ، قَالَ : وَكَانَ سُفْيَانُ إِذَا ذَكَرَ عَمْرًا أَثْنَى عَلَيْهِ .
شریح بن ہانی روایت:
میں سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے پاس آیا ان سے موزوں کا مسح پوچھنے کو۔ انہوں نے کہا کہ تم ابوطالب کے بیٹے (یعنی سیدنا علی رضی اللہ عنہ) سے پوچھو وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ سفر کیا کرتے تھے۔ ہم نے ان سے پوچھا۔ انہوں نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مسافر کے لئے مسح کی مدت تین دن رات مقرر کی اور مقیم کے لئے ایک دن رات۔ راوی نے کہا کہ جب سفیان عمرو کا ذکر کرتے تو ان کی تعریف کرتے۔
صحیح مسلم حدیث ۶۳۹ کا خلاصہ
یہ حدیث موزوں پر مسح کی مدت کے بارے میں بنیادی روایت ہے۔ شریح بن ہانی بیان کرتے ہیں کہ وہ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے پاس موزوں پر مسح کے بارے میں پوچھنے آئے۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے انہیں سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے پاس جانے کو کہا، کیونکہ وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ سفر کیا کرتے تھے۔ جب سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے پوچھا گیا تو انہوں نے بتایا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مسافر کے لیے تین دن اور تین راتیں، اور مقیم کے لیے ایک دن اور ایک رات مقرر فرمائی۔ اس حدیث میں اصل بات مدت کی تعیین ہے۔ یہاں مسافر اور مقیم کا فرق صاف الفاظ میں آیا ہے۔ یہ روایت ان لوگوں کے لیے بہت اہم ہے جو “موزوں پر مسح کتنے دن” یا “مسح علی الخفین کی مدت” تلاش کرتے ہیں۔ متن کے مطابق بات اتنی ہی ہے کہ مدت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے مقرر فرمائی۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- مسافر کے لیے موزوں پر مسح کی مدت تین دن رات بیان ہوئی ہے۔
- مقیم کے لیے ایک دن رات کی مدت بیان ہوئی ہے۔
- مسئلہ پوچھنے پر سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے سفر کے ساتھی صحابی کی طرف رہنمائی کی۔
