صحیح مسلم حدیث ۶۴۰۸ - اشعریوں کا ایثار اور برابر تقسیم
اشعریوں کا ایثار: تنگی میں برابر بانٹنے کی خوبصورت حدیث
صحیح مسلم : ۶۴۰۸
صحیح مسلمحدیث نمبر ۶۴۰۸
حَدَّثَنَا أَبُو عَامِرٍ الْأَشْعَرِيُّ ، وَأَبُو كُرَيْبٍ جَمِيعًا ، عَنْ أَبِي أُسَامَةَ ، قَالَ أَبُو عَامِرٍ : حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ ، حَدَّثَنِي بُرَيْدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي بُرْدَةَ ، عَنْ جَدِّهِ أَبِي بُرْدَةَ ، عَنْ أَبِي مُوسَى ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِنَّ الْأَشْعَرِيِّينَ إِذَا أَرْمَلُوا فِي الْغَزْوِ ، أَوْ قَلَّ طَعَامُ عِيَالِهِمْ بِالْمَدِينَةِ ، جَمَعُوا مَا كَانَ عِنْدَهُمْ فِي ثَوْبٍ وَاحِدٍ ، ثُمَّ اقْتَسَمُوهُ بَيْنَهُمْ فِي إِنَاءٍ وَاحِدٍ بِالسَّوِيَّةِ ، فَهُمْ مِنِّي وَأَنَا مِنْهُمْ " .
ابوموسیٰ روایت:
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اشعری لوگ جب لڑائی میں محتاج ہو جاتے ہیں یا مدینہ میں ان کے جورو بچوں کا کھانا کم ہو جاتا ہے تو جو کچھ ان کے پاس ہوتا ہے اس کو ایک کپڑے میں اکٹھا کرتے ہیں، پھر آپس میں برابر بانٹ لیتے ہیں۔ یہ لوگ میرے ہیں اور میں ان کا ہوں۔“ (یعنی میں ان سے راضی ہوں اور ایسے اتفاق کو پسند کرتا ہوں)۔
صحیح مسلم حدیث ۶۴۰۸ کا خلاصہ
اس حدیث میں اشعری لوگوں کی ایک بہت پیاری عادت بیان ہوئی ہے۔ جب وہ جنگ میں محتاج ہو جاتے یا مدینہ میں ان کے گھر والوں کا کھانا کم ہو جاتا، تو جو کچھ ان کے پاس ہوتا اسے ایک کپڑے میں جمع کرتے۔ پھر اسے آپس میں برابر بانٹ لیتے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے اس عمل کو پسند فرمایا اور فرمایا کہ یہ لوگ میرے ہیں اور میں ان کا ہوں۔ اس حدیث کا موضوع ایثار، بھائی چارہ اور اجتماعی مدد ہے۔ یہاں بات صرف صدقہ دینے کی نہیں، بلکہ تنگی میں بھی ایک دوسرے کو برابر سمجھنے کی ہے۔ اشعریوں کی فضیلت اسی عمل سے ظاہر ہوئی کہ وہ اپنی ضرورت کے وقت بھی دوسروں کو نہیں بھولتے تھے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- تنگی میں ایک دوسرے کا ساتھ دینا اشعریوں کی پسندیدہ صفت تھی۔
- کھانے اور سامان کو برابر بانٹنا بھائی چارے کی نشانی ہے۔
- نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے اس عمل کی تعریف فرمائی۔
- اجتماعی مشکل میں خود غرضی کے بجائے تعاون بہتر ہے۔
