صحیح مسلم حدیث ۶۴۰۷ - اشعریوں کی رات کی تلاوت قرآن
اشعری صحابہ کی تلاوت قرآن: رات کی آواز سے پہچان
صحیح مسلم : ۶۴۰۷
صحیح مسلمحدیث نمبر ۶۴۰۷
حَدَّثَنَا أَبُو كُرَيْبٍ مُحَمَّدُ بْنُ الْعَلَاءِ ، حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ ، حَدَّثَنَا بُرَيْدٌ ، عَنْ أَبِي بُرْدَةَ ، عَنْ أَبِي مُوسَى ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِنِّي لَأَعْرِفُ أَصْوَاتَ رُفْقَةِ الْأَشْعَرِيِّينَ بِالْقُرْآنِ حِينَ يَدْخُلُونَ بِاللَّيْلِ ، وَأَعْرِفُ مَنَازِلَهُمْ مِنْ أَصْوَاتِهِمْ بِالْقُرْآنِ بِاللَّيْلِ ، وَإِنْ كُنْتُ لَمْ أَرَ مَنَازِلَهُمْ حِينَ نَزَلُوا بِالنَّهَارِ ، وَمِنْهُمْ حَكِيمٌ إِذَا لَقِيَ الْخَيْلَ ، أَوَ قَالَ الْعَدُوَّ ، قَالَ لَهُمْ : إِنَّ أَصْحَابِي يَأْمُرُونَكُمْ أَنْ تَنْظُرُوهُمْ " .
ابوموسیٰ روایت:
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میں اشعریوں کی آواز قرآن پاک پڑھنے سے پہچان لیتا ہوں جب وہ رات کو آتے ہیں اور رات کو ان کی آواز سے ان کا ٹھکانا بھی پہچان لیتا ہوں اگرچہ دن کو ان کا ٹھکانا نہ دیکھا ہو جب وہ دن کو اترے ہوں اور انہی لوگوں میں سے ایک شخص حکیم ہے کہ جب کافروں کے سواروں سے یا دشمنوں سے ملتا ہے تو ان سے کہتا ہے کہ ہمارے لوگ تم سے کہتے ہیں ذرا ہم کو فرصت دو یا تھوڑا انتظار کرو یعنی ہم بھی تیار ہیں لڑنے کو آتے ہیں (تو اپنے تئیں دانائی اور حکمت سے بچا لیتا ہے کیونکہ دشمن یہ سمجھتے ہیں کہ یہ اکیلا نہیں ہے بلکہ اس کے ساتھ اور لوگ ہیں)۔
صحیح مسلم حدیث ۶۴۰۷ کا خلاصہ
اس حدیث میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اشعری لوگوں کی قرآن پڑھنے کی آواز کا ذکر فرمایا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے بتایا کہ جب وہ رات کو آتے تو آپ ان کی تلاوت قرآن کی آواز سے انہیں پہچان لیتے، بلکہ رات کے وقت ان کے ٹھکانے بھی آواز سے جان لیتے، اگرچہ دن میں ان کی جگہ نہ دیکھی ہوتی۔ اسی روایت میں ان کے ایک حکیم شخص کا بھی ذکر ہے جو دشمن سے سامنا ہونے پر حکمت سے بات کرتا تھا۔ اس حدیث کا اصل موضوع اشعری صحابہ کی قرآن سے وابستگی ہے۔ ان کی پہچان مال، لباس یا ظاہری شان سے نہیں، بلکہ قرآن کی تلاوت سے بنی۔ یہ بات ہر مسلمان کو یاد دلاتی ہے کہ قرآن کے ساتھ تعلق انسان کی پہچان کو خوبصورت بنا دیتا ہے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- اشعری صحابہ رضی اللہ عنہم قرآن کی تلاوت سے پہچانے جاتے تھے۔
- رات کی عبادت اور قرآن خوانی ان کی نمایاں خوبی تھی۔
- دشمن کے مقابلے میں حکمت کے ساتھ بات کرنا بھی قابل ذکر عمل ہے۔
- اچھی پہچان نیک عادتوں سے بنتی ہے۔
