صحیح مسلم حدیث ۶۴۲۰ - انصار میرے خاص معتمد ہیں

انصار میری خاص جماعت ہیں: نیک کو قبول کرو اور خطا سے درگزر کرو

صحیح مسلمحدیث نمبر ۶۴۲۰

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، وَمُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ ، وَاللَّفْظُ لِابْنِ الْمُثَنَّى ، قَالَا : حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَر ، أَخْبَرَنَا شُعْبَةُ ، سَمِعْتُ قَتَادَةَ يُحَدِّثُ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " إِنَّ الْأَنْصَارَ كَرِشِي وَعَيْبَتِي ، وَإِنَّ النَّاسَ سَيَكْثُرُونَ وَيَقِلُّونَ ، فَاقْبَلُوا مِنْ مُحْسِنِهِمْ ، وَاعْفُوا عَنْ مُسِيئِهِمْ " .

انس بن مالک روایت:

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”انصار میری انتڑیاں اور میری گٹھریاں ہیں (کپڑا رکھنے کی یعنی میرے خاص معتمد اور اعتباری لوگ ہیں) اور لوگ بڑھتے جائیں گے اور انصار گھٹتے جائیں گے تو قبول کرو ان کے نیک کو اور معاف کرو ان کے برے کو۔“

صحیح مسلم حدیث ۶۴۲۰ کا خلاصہ

اس حدیث میں سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: انصار میری انتڑیاں اور میری گٹھریاں ہیں، یعنی بہت خاص اور قابل اعتماد لوگ ہیں۔ پھر فرمایا کہ لوگ بڑھتے جائیں گے اور انصار کم ہوتے جائیں گے، اس لیے ان کے نیک آدمی سے قبول کرو اور ان کے خطا کرنے والے سے درگزر کرو۔ اس حدیث میں انصار کی قربت، اعتماد اور مقام کا بیان ہے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے آنے والے وقت کی طرف بھی اشارہ فرمایا کہ انصار کی تعداد کم ہو جائے گی۔ ساتھ ہی امت کو ایک عملی ہدایت دی کہ انصار کے ساتھ قدر، حسن سلوک اور نرمی کا معاملہ رکھا جائے۔ یہ حدیث احسان یاد رکھنے اور اہل خیر کے ساتھ وفا کرنے کا سبق دیتی ہے۔

اس حدیث سے ہماری تعلیم

  • انصار کو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنا خاص معتمد فرمایا۔
  • انصار کے نیک عمل کو قبول کرنے کا حکم دیا گیا۔
  • ان کے خطا کرنے والے سے درگزر کی ہدایت دی گئی۔
  • احسان کرنے والوں کی قدر کرنا ایمان دارانہ رویہ ہے۔

اس سے متعلق احادیث

ترتیبات

زبان

فونٹ کی ترتیبات

عربی فونٹ

عربی فونٹ سائز

24

ترجمہ فونٹ سائز

18

پڑھنے کا لے آؤٹ

ایپ ڈاؤن لوڈ کریں - الحدیث

App Banner

اسلامی علم پھیلانے میں مدد کریں

آپ کی مسلسل حمایت ہمیں اسلام کا پیغام پہنچانے میں مدد کرے گی۔

ہماری مدد کریں