صحیح مسلم حدیث ۶۴۶۱ - قریش کی نیک عورتیں اور گھر کی ذمہ داری
قریش کی عورتوں کی حدیث: شفقت اور امانت داری
صحیح مسلم : ۶۴۶۱
صحیح مسلمحدیث نمبر ۶۴۶۱
حَدَّثَنِي أَحْمَدُ بْنُ عُثْمَانَ بْنِ حَكِيمٍ الْأَوْدِيُّ ، حَدَّثَنَا خَالِدٌ يَعْنِي ابْنَ مَخْلَدٍ ، حَدَّثَنِي سُلَيْمَانُ وَهُوَ ابْنُ بِلَالٍ ، حَدَّثَنِي سُهَيْلٌ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، بِمِثْلِ حَدِيثِ مَعْمَرٍ ، هَذَا سَوَاءً .
ترجمہ وہی ہے جو اوپر گزرا۔
صحیح مسلم حدیث ۶۴۶۱ کا خلاصہ
یہ روایت قریش کی نیک عورتوں کی حدیث کے طور پر تلاش کی جاتی ہے۔ اس میں بتایا گیا کہ بہترین عورتوں میں وہ صالح عورتیں ہیں جو اپنے چھوٹے بچے کے لیے نرم دل ہوں اور شوہر کے مال کے معاملے میں خیال رکھنے والی ہوں۔ بات بہت سیدھی ہے: گھر کی زندگی صرف رشتے کے نام سے نہیں چلتی، بلکہ شفقت، امانت داری اور ذمہ داری سے بنتی ہے۔ اس حدیث میں ماں کی محبت، بچے کی پرورش، اور گھر کے مال کی حفاظت کو اچھے کردار کی علامت بتایا گیا ہے۔ یہاں غیر ضروری دعویٰ نہیں کیا گیا، بلکہ دو صاف خوبیوں کا ذکر ہے: اولاد پر رحم اور شوہر کے مال میں احتیاط۔ یہی وجہ ہے کہ لوگ اسے قریش کی صالح خواتین، اچھی بیوی کی حدیث، اور اولاد پر شفقت کی حدیث کے نام سے ڈھونڈتے ہیں۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- بچے کے ساتھ نرمی اور محبت اچھی عادت ہے۔
- گھر کے مال میں احتیاط اور امانت داری پسندیدہ وصف ہے۔
- نیکی کا تعلق صرف عبادت سے نہیں، گھریلو ذمہ داری سے بھی ہے۔
