صحیح مسلم حدیث ۶۴۶۶ - صحابہ کی امان

صحابہ کرام کی فضیلت: امت کے لیے امان کی حدیث

صحیح مسلمحدیث نمبر ۶۴۶۶

حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَإِسْحاَقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، وَعَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ بْنِ أَبَانَ كُلُّهُمْ ، عَنْ حُسَيْنٍ ، قَالَ أَبُو بَكْرٍ حَدَّثَنَا حُسَيْنُ بْنُ عَلِيٍّ الْجُعْفِيُّ ، عَنْ مُجَمَّعِ بْنِ يَحْيَي ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي بُرْدَةَ ، عَنْ أَبِي بُرْدَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ : " صَلَّيْنَا الْمَغْرِبَ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، ثُمَّ قُلْنَا : لَوْ جَلَسْنَا حَتَّى نُصَلِّيَ مَعَهُ الْعِشَاءَ ، قَالَ : فَجَلَسْنَا فَخَرَجَ عَلَيْنَا ، فَقَالَ : مَا زِلْتُمْ هَاهُنَا ؟ قُلْنَا : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، صَلَّيْنَا مَعَكَ الْمَغْرِبَ ثُمَّ قُلْنَا نَجْلِسُ حَتَّى نُصَلِّيَ مَعَكَ الْعِشَاءَ ، قَالَ : أَحْسَنْتُمْ أَوْ أَصَبْتُمْ ، قَالَ : فَرَفَعَ رَأْسَهُ إِلَى السَّمَاءِ وَكَانَ كَثِيرًا مِمَّا يَرْفَعُ رَأْسَهُ إِلَى السَّمَاءِ ، فَقَالَ : النُّجُومُ أَمَنَةٌ لِلسَّمَاءِ ، فَإِذَا ذَهَبَتِ النُّجُومُ أَتَى السَّمَاءَ مَا تُوعَدُ ، وَأَنَا أَمَنَةٌ لِأَصْحَابِي ، فَإِذَا ذَهَبْتُ أَتَى أَصْحَابِي مَا يُوعَدُونَ ، وَأَصْحَابِي أَمَنَةٌ لِأُمَّتِي ، فَإِذَا ذَهَبَ أَصْحَابِي أَتَى أُمَّتِي مَا يُوعَدُونَ " .

ابوموسیٰ روایت:

ہم نے مغرب کی نماز رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ پڑھی، پھر ہم نے کہا: اگر ہم آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ بیٹھے رہیں یہاں تک کہ عشاء آپ کے ساتھ پڑھیں تو بہتر ہو گا، پھر ہم بیٹھے رہے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم باہر تشریف لائے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم یہیں بیٹھے رہے۔“ ہم نے عرض کیا: جی ہاں، یا رسول اللہ! ہم نے آپ کے ساتھ مغرب کی نماز پڑھی پھر ہم نے کہا: اگر ہم بیٹھے رہیں یہاں تک کہ عشاء کی نماز بھی آپ کے ساتھ پڑھیں تو بہتر ہو گا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم نے اچھا کیا اور ٹھیک کیا۔“پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنا سر آسمان کی طرف اٹھایا اور اکثر آپ صلی اللہ علیہ وسلم اپنا سر آسمان کی طرف اٹھاتے پھر فرمایا: ”تارے بچاؤ ہیں آسمان کے، جب تارے مٹ جائیں گے تو آسمان پر بھی جس بات کا وعدہ ہے وہ آ جائے گی (یعنی قیامت آ جائے گی اور آسمان بھی پھٹ کر خراب ہو جائے گا) اور میں بچاؤ ہوں اپنے اصحاب کا جب میں چلا جاؤں گا تو میرے اصحاب پر بھی وہ وقت آ جائے گا جس کا وعدہ ہے (یعنی فتنہ اور فساد اور لڑائیاں) اور میرے اصحاب بچاؤ ہیں میری امت کے جب اصحاب چلے جائیں گے تو میری امت پر وہ وقت آ جائے گا جس کا وعدہ ہے۔“

صحیح مسلم حدیث ۶۴۶۶ کا خلاصہ

یہ حدیث صحابہ کرام کی فضیلت اور امت کے لیے امان کے مضمون پر ہے۔ سیدنا ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ بتاتے ہیں کہ صحابہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ مغرب پڑھی، پھر عشاء بھی آپ کے ساتھ پڑھنے کے لیے بیٹھ گئے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے اس عمل کو اچھا فرمایا۔ پھر آسمان کی طرف سر اٹھا کر فرمایا کہ تارے آسمان کے لیے امان ہیں، جب تارے چلے جائیں گے تو آسمان پر وعدہ شدہ بات آئے گی۔ پھر فرمایا کہ میں اپنے اصحاب کے لیے امان ہوں، اور میرے اصحاب میری امت کے لیے امان ہیں۔ متن کے مطابق بات بہت محتاط ہے: نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی موجودگی صحابہ کے لیے اور صحابہ کی موجودگی امت کے لیے خیر و امان کا سبب بتائی گئی۔ اسی لیے یہ روایت صحابہ امان امت، ستارے امان آسمان، اور فضائل صحابہ حدیث کے نام سے تلاش ہوتی ہے۔

اس حدیث سے ہماری تعلیم

  • نماز کے بعد نیک مقصد سے رکنا اچھا عمل ہو سکتا ہے۔
  • رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے صحابہ کے انتظار کو اچھا فرمایا۔
  • صحابہ رضی اللہ عنہم کو امت کے لیے امان بتایا گیا۔

ترتیبات

زبان

فونٹ کی ترتیبات

عربی فونٹ

عربی فونٹ سائز

24

ترجمہ فونٹ سائز

18

پڑھنے کا لے آؤٹ

ایپ ڈاؤن لوڈ کریں - الحدیث

App Banner

اسلامی علم پھیلانے میں مدد کریں

آپ کی مسلسل حمایت ہمیں اسلام کا پیغام پہنچانے میں مدد کرے گی۔

ہماری مدد کریں