صحیح مسلم حدیث ۶۴۶۷ - صحابہ کی فضیلت

صحابہ کی فضیلت حدیث: بابرکت نسلوں کے ساتھ فتح

صحیح مسلمحدیث نمبر ۶۴۶۷

حَدَّثَنَا أَبُو خَيْثَمَةَ زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، وَاللَّفْظُ لِزُهَيْرٍ ، وَأَحْمَدُ بْنُ عَبْدَةَ الضَّبِّيُّ ، قَالَا : حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ ، قَالَ : سَمِعَ عَمْرٌو جَابِرًا يُخْبِرُ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " يَأْتِي عَلَى النَّاسِ زَمَانٌ يَغْزُو فِئَامٌ مِنَ النَّاسِ ، فَيُقَالُ لَهُمْ : فِيكُمْ مَنْ رَأَى رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ؟ فَيَقُولُونَ : نَعَمْ ، فَيُفْتَحُ لَهُمْ ، ثُمَّ يَغْزُو فِئَامٌ مِنَ النَّاسِ ، فَيُقَالُ لَهُمْ : فِيكُمْ مَنْ رَأَى مَنْ صَحِبَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ؟ فَيَقُولُونَ : نَعَمْ ، فَيُفْتَحُ لَهُمْ ، ثُمَّ يَغْزُو فِئَامٌ مِنَ النَّاسِ ، فَيُقَالُ لَهُمْ : هَلْ فِيكُمْ مَنْ رَأَى مَنْ صَحِبَ مَنْ صَحِبَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ؟ فَيَقُولُونَ : نَعَمْ ، فَيُفْتَحُ لَهُمْ " .

ابو سعید خدری روایت:

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ایک زمانہ آئے گا کہ جہاد کریں گے آدمیوں کے جھنڈ تو ان سے پوچھیں گے کہ کوئی تم میں وہ شخص ہے جس نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا ہو تو لوگ کہیں گے کہ ہاں! تو فتح ہو جائے گی ان کی پھر جہاد کریں گے لوگوں کے گروہ تو ان سے پوچھیں گے کہ کوئی ہے تم میں سے جس نے دیکھا ہو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابی کو یعنی تابعین میں سے کوئی ہے، لوگ کہیں گے: ہاں! پھر ان کی فتح ہو جائے گی، پھر جہاد کریں گے آدمیوں کے لشکر تو ان سے پوچھا جائے گا کہ کوئی ہے تم میں ایسا جس نے صحابی کے صاحب کو دیکھا ہو یعنی تبع تابعین میں سے لوگ کہیں گے: ہاں! تو ان کی فتح ہو جائے گی۔

صحیح مسلم حدیث ۶۴۶۷ کا خلاصہ

یہ روایت صحابہ کرام کی فضیلت اور ابتدائی نسلوں کی برکت کے بارے میں ہے۔ سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک زمانہ آئے گا، لوگوں کے گروہ جہاد کریں گے۔ ان سے پوچھا جائے گا کہ کیا تم میں کوئی ایسا ہے جس نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا ہو؟ جب جواب ہاں ہوگا تو ان کے لیے فتح ہوگی۔ پھر دوسرے گروہ کے بارے میں پوچھا جائے گا کہ کیا ان میں کسی نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابی کو دیکھا ہے؟ پھر تیسرے گروہ میں اس شخص کا ذکر ہوگا جس نے صحابی کے ساتھی کو دیکھا ہو۔ حدیث کا اصل پیغام یہی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھنے والے صحابہ، پھر ان سے ملنے والی نسلیں، امت میں ایک خاص نسبت رکھتی ہیں۔ اسے بہترین زمانہ حدیث، صحابہ کی برکت، اور تابعین کی فضیلت کے نام سے تلاش کیا جاتا ہے۔

اس حدیث سے ہماری تعلیم

  • صحابہ رضی اللہ عنہم کی نسبت اس روایت میں خاص فضیلت کے ساتھ آئی ہے۔
  • ابتدائی دینی نسلوں کا ذکر عزت کے ساتھ کیا گیا ہے۔
  • فتح کا ذکر ان گروہوں کے ساتھ آیا جن میں ان بابرکت نسلوں سے تعلق رکھنے والے لوگ موجود تھے۔

ترتیبات

زبان

فونٹ کی ترتیبات

عربی فونٹ

عربی فونٹ سائز

24

ترجمہ فونٹ سائز

18

پڑھنے کا لے آؤٹ

ایپ ڈاؤن لوڈ کریں - الحدیث

App Banner

اسلامی علم پھیلانے میں مدد کریں

آپ کی مسلسل حمایت ہمیں اسلام کا پیغام پہنچانے میں مدد کرے گی۔

ہماری مدد کریں