صحیح مسلم حدیث ۶۴۹۰ - اویس قرنی سے دعا کروانے کی نصیحت

اویس قرنی کی فضیلت: ان سے دعا کروانے کی حدیث

صحیح مسلمحدیث نمبر ۶۴۹۰

حَدَّثَنِي زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، حَدَّثَنَا هَاشِمُ بْنُ الْقَاسِمِ ، حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ الْمُغِيرَةِ ، حَدَّثَنِي سَعِيدٌ الْجُرَيْرِيُّ ، عَنْ أَبِي نَضْرَةَ ، عَنْ أُسَيْرِ بْنِ جَابِرٍ : أَنَّ أَهْلَ الْكُوفَةِ وَفَدُوا إِلَى عُمَرَ ، وَفِيهِمْ رَجُلٌ مِمَّنْ كَانَ يَسْخَرُ بِأُوَيْسٍ ، فَقَالَ عُمَرُ : هَلْ هَاهُنَا أَحَدٌ مِنَ الْقَرَنِيِّينَ ؟ فَجَاءَ ذَلِكَ الرَّجُلُ ، فَقَالَ عُمَرُ : إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَدْ قَالَ : إِنَّ رَجُلًا يَأْتِيكُمْ مِنْ الْيَمَنِ ، يُقَالُ لَهُ أُوَيْسٌ ، لَا يَدَعُ بِالْيَمَنِ غَيْرَ أُمٍّ لَهُ قَدْ كَانَ بِهِ بَيَاضٌ ، فَدَعَا اللَّهَ فَأَذْهَبَهُ عَنْهُ إِلَّا مَوْضِعَ الدِّينَارِ أَوِ الدِّرْهَمِ فَمَنْ لَقِيَهُ مِنْكُمْ فَلْيَسْتَغْفِرْ لَكُمْ " .

اسیر بن جابر روایت:

کوفہ کے لوگ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کے پاس آئے ان میں ایک شخص تھا جو سیدنا اویس رضی اللہ عنہ سے ٹھٹھا کیا کرتا (کیونکہ وہ نہیں جانتا تھا کہ یہ اولیاء اللہ میں سے ہیں اور اویس اپنا حال چھپاتے تھے۔ نووی رحمہ اللہ نے کہا: عارفوں کا یہی طریقہ ہے) سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: یہاں قرن کا بھی کوئی آدمی ہے؟وہ شخص آیا تب سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تمہارے پاس ایک شخص آئے گا یمن سے اس کا نام اویس ہے اور وہ یمن میں کسی کو نہ چھوڑے گا (اپنے عزیزوں میں سے) سوا اپنی ماں کے، اس کو (برص کی) سفیدی ہو گئی تھی تو اس نے اللہ تعالیٰ سے دعا کی۔ اللہ نے دور کر دی وہ سفیدی اس کے بدن سے مگر ایک دینار یا درم برابر باقی ہے جو کوئی تم میں سے اس کو ملے تو اپنے لیے دعا کروائے اس سے۔“

صحیح مسلم حدیث ۶۴۹۰ کا خلاصہ

اس حدیث میں سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان بیان کیا کہ یمن سے اویس نامی شخص آئے گا۔ اس کی ماں ہوگی، اس کے جسم پر سفیدی تھی جس کے لیے اس نے اللہ سے دعا کی تو اللہ نے اسے دور کر دیا، صرف دینار یا درہم کے برابر نشان باقی رہا۔ پھر فرمایا گیا کہ جو تم میں سے اسے ملے وہ اس سے اپنے لیے استغفار کروائے۔ اس روایت کا اصل موضوع اویس قرنی کی فضیلت، دعا، اور والدہ کے ساتھ تعلق ہے۔ یہاں ہمیں ایک ایسے بندے کا ذکر ملتا ہے جو لوگوں میں مشہور نہیں تھا، مگر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کی نشانی بتائی۔ اویس قرنی کی حدیث، اویس قرنی کی دعا، اور خیر تابعین جیسے الفاظ اسی مضمون سے جڑے ہیں۔

اس حدیث سے ہماری تعلیم

  • نیک بندوں کی دعا کی قدر کرنی چاہیے۔
  • ظاہری شہرت کسی شخص کے مقام کا لازمی معیار نہیں۔
  • اللہ تعالیٰ دعا قبول فرماتا ہے، جیسا کہ اویس کے واقعہ میں آیا۔
  • کسی کو مذاق کا نشانہ بنانا درست رویہ نہیں، خاص طور پر جب اس کا حال معلوم نہ ہو۔

ترتیبات

زبان

فونٹ کی ترتیبات

عربی فونٹ

عربی فونٹ سائز

24

ترجمہ فونٹ سائز

18

پڑھنے کا لے آؤٹ

ایپ ڈاؤن لوڈ کریں - الحدیث

App Banner

اسلامی علم پھیلانے میں مدد کریں

آپ کی مسلسل حمایت ہمیں اسلام کا پیغام پہنچانے میں مدد کرے گی۔

ہماری مدد کریں