صحیح مسلم حدیث ۶۴۸۹ - صحابہ کے ادب کی تاکید
صحابہ کرام کا ادب: فضیلت صحابہ کی روایت
صحیح مسلم : ۶۴۸۹
صحیح مسلمحدیث نمبر ۶۴۸۹
حَدَّثَنَا أَبُو سَعِيدٍ الْأَشَجُّ ، وَأَبُو كُرَيْبٍ ، قَالَا : حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، عَنْ الْأَعْمَشِ . ح وحَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُعَاذٍ ، حَدَّثَنَا أَبِي . ح وحَدَّثَنَا ابْنُ الْمُثَنَّى ، وَابْنُ بَشَّارٍ ، قَالَا : حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عَدِيٍّ جَمِيعًا ، عَنْ شُعْبَةَ، عَنْ الْأَعْمَشِ ، بِإِسْنَادِ جَرِيرٍ وَأَبِي مُعَاوِيَةَ بِمِثْلِ حَدِيثِهِمَا وَلَيْسَ فِي حَدِيثِ شُعْبَةَ وَوَكِيعٍ ذِكْرُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ وَخَالِدِ بْنِ الْوَلِيدِ .
ترجمہ وہی ہے جو اوپر گزرا۔
صحیح مسلم حدیث ۶۴۸۹ کا خلاصہ
یہ روایت اسی مضمون کو بیان کرتی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے صحابہ کو برا کہنے سے منع فرمایا۔ بعض سندوں میں خالد بن ولید اور عبدالرحمن بن عوف رضی اللہ عنہم کے واقعہ کا ذکر نہیں، مگر اصل پیغام وہی ہے کہ صحابہ کرام کی شان اور ان کے عمل کی قدر بہت بلند ہے۔ حدیث میں احد پہاڑ کے برابر سونا خرچ کرنے کی مثال دے کر یہ سمجھایا گیا کہ بعد کے لوگوں کا بہت بڑا خرچ بھی صحابہ کے ایک مد یا آدھے مد کے برابر نہیں پہنچتا۔ اس لیے صحابہ کرام کا ادب، فضیلت صحابہ، اور صحابہ کو برا نہ کہو جیسے موضوعات میں یہ حدیث ایک مضبوط نصیحت ہے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- صحابہ کرام کے بارے میں بدزبانی سے بچنا چاہیے۔
- روایت کے الفاظ میں فرق ہو سکتا ہے مگر اصل پیغام ایک رہتا ہے۔
- صحابہ کے عمل کا مقام بعد والوں کے لیے عام پیمانے سے نہیں تولا جا سکتا۔
- زبان کی حفاظت خاص طور پر نیک لوگوں کے بارے میں ضروری ہے۔
