صحیح مسلم حدیث ۶۴۸۸ - میرے صحابہ میں سے کسی کو برا نہ کہو

میرے صحابہ میں سے کسی کو برا نہ کہو: حدیث کا پیغام

صحیح مسلمحدیث نمبر ۶۴۸۸

حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا جَرِيرٌ ، عَنْ الْأَعْمَشِ ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ ، قَالَ : كَانَ بَيْنَ خَالِدِ بْنِ الْوَلِيدِ ، وَبَيْنَ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ شَيْءٌ ، فَسَبَّهُ خَالِدٌ : فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لَا تَسُبُّوا أَحَدًا مِنْ أَصْحَابِي ، فَإِنَّ أَحَدَكُمْ لَوْ أَنْفَقَ مِثْلَ أُحُدٍ ذَهَبًا مَا أَدْرَكَ مُدَّ أَحَدِهِمْ وَلَا نَصِيفَهُ " .

ابوسعید روایت:

سیدنا خالد بن ولید اور سیدنا عبدالرحمن بن عوف رضی اللہ عنہم میں کچھ جھگڑا ہو ا تو سیدنا خالد رضی اللہ عنہ نے ان کو برا کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”مت برا کہو میرے اصحاب میں سے کسی کو اس لیے کہ اگر کو ئی تم میں سے احد پہاڑ کے برابر سونا صرف کرے تو ان کے مد یا آدھے مد کے برابر نہیں ہو سکتا۔“

صحیح مسلم حدیث ۶۴۸۸ کا خلاصہ

اس روایت میں سیدنا خالد بن ولید اور سیدنا عبدالرحمن بن عوف رضی اللہ عنہم کے درمیان ایک معاملہ ہوا، جس میں سیدنا خالد رضی اللہ عنہ نے انہیں برا کہا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ میرے صحابہ میں سے کسی کو برا نہ کہو۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اگر تم میں سے کوئی احد پہاڑ کے برابر سونا خرچ کرے تو وہ ان کے ایک مد یا آدھے مد تک نہیں پہنچ سکتا۔ اس حدیث کا پیغام یہ ہے کہ صحابہ کرام کے مقام کو سمجھا جائے اور زبان کو ان کے بارے میں محتاط رکھا جائے۔ فضیلت صحابہ، ادب صحابہ، اور صحابہ کو برا نہ کہو جیسے موضوعات میں یہ روایت بہت واضح نصیحت دیتی ہے۔

اس حدیث سے ہماری تعلیم

  • صحابہ کے درمیان پیش آئے واقعات میں زبان کو قابو میں رکھنا چاہیے۔
  • نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے صحابہ کو برا کہنے سے منع فرمایا۔
  • صحابہ کے تھوڑے عمل کی قدر بھی بہت بلند ہے۔
  • کسی بڑے نیک عمل کی مقدار بھی صحابہ کے مقام کو برابر نہیں کر سکتی۔

ترتیبات

زبان

فونٹ کی ترتیبات

عربی فونٹ

عربی فونٹ سائز

24

ترجمہ فونٹ سائز

18

پڑھنے کا لے آؤٹ

ایپ ڈاؤن لوڈ کریں - الحدیث

App Banner

اسلامی علم پھیلانے میں مدد کریں

آپ کی مسلسل حمایت ہمیں اسلام کا پیغام پہنچانے میں مدد کرے گی۔

ہماری مدد کریں