صحیح مسلم حدیث ۶۴۸۷ - صحابہ کو برا کہنے کی ممانعت

صحابہ کو برا نہ کہو: فضیلت صحابہ کی اہم حدیث

صحیح مسلمحدیث نمبر ۶۴۸۷

حَدَّثَنَا يَحْيَي بْنُ يَحْيَي التَّمِيمِيُّ ، وَأَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَمُحَمَّدُ بْنُ الْعَلَاءِ ، قَالَ يَحْيَي : أَخْبَرَنَا ، وقَالَ الْآخَرَانِ : حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ ، عَنْ الْأَعْمَشِ ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لَا تَسُبُّوا أَصْحَابِي ، لَا تَسُبُّوا أَصْحَابِي ، فَوَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ ، لَوْ أَنَّ أَحَدَكُمْ أَنْفَقَ مِثْلَ أُحُدٍ ذَهَبًا مَا أَدْرَكَ مُدَّ أَحَدِهِمْ وَلَا نَصِيفَهُ " .

ابوہریرہ روایت:

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”مت برا کہو میرے اصحاب کو، مت برا کہو میرے اصحاب کو، قسم اس کی جس کے ہاتھ میں میری جان ہے اگر کوئی تم میں احد پہاڑ کے برابر سونا خرچ کر ے (اللہ تعالیٰ کی راہ میں) تو ان کے مد (سیر بھر) یا آدھے مد کے برابر نہیں ہو سکتا۔“

صحیح مسلم حدیث ۶۴۸۷ کا خلاصہ

اس حدیث میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے دو بار فرمایا کہ میرے صحابہ کو برا نہ کہو۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے قسم کھا کر بتایا کہ اگر کوئی احد پہاڑ کے برابر سونا اللہ کی راہ میں خرچ کرے، تب بھی صحابہ کے ایک مد یا آدھے مد کے برابر نہیں پہنچ سکتا۔ اس حدیث کا اصل موضوع صحابہ کا ادب اور ان کی فضیلت ہے۔ یہاں بات خرچ کی مقدار کی نہیں، بلکہ صحابہ کے مقام کی ہے۔ ان کا زمانہ، ان کی قربانی، اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی صحبت ایسی نعمت تھی جس کا بدل بعد والے لوگ نہیں پا سکتے۔ اس لیے فضائل صحابہ، صحابہ کرام کا ادب، اور صحابہ کو برا نہ کہو جیسے اہم الفاظ اس حدیث سے جڑے ہوئے ہیں۔

اس حدیث سے ہماری تعلیم

  • صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کو برا کہنا منع ہے۔
  • صحابہ کے عمل کی قدر بہت بلند بیان کی گئی ہے۔
  • صرف مال کی کثرت عمل کی قدر کو برابر نہیں کر دیتی۔
  • نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ کا ادب ایمان والے کے لیے ضروری رویہ ہے۔

ترتیبات

زبان

فونٹ کی ترتیبات

عربی فونٹ

عربی فونٹ سائز

24

ترجمہ فونٹ سائز

18

پڑھنے کا لے آؤٹ

ایپ ڈاؤن لوڈ کریں - الحدیث

App Banner

اسلامی علم پھیلانے میں مدد کریں

آپ کی مسلسل حمایت ہمیں اسلام کا پیغام پہنچانے میں مدد کرے گی۔

ہماری مدد کریں